உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجناتھ سنگھ کا بڑا دعویٰ- ہندوستان کی طاقت کے سبب ہی کامیاب ہوئی پاکستان کے ساتھ جنگ بندی

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ (Union Defence Minister Rajnath Singh) نے کہا، ’دو جنگ ہارنے کے بعد، ہمارے ایک پڑوسی ملک (پاکستان) نے ایک پراکسی وار شروع کیا ہے اور دہشت گردی اس کی پالیسی کا ایک مرکزی حصہ بن گیا ہے۔ یہ ہتھیار، فنڈ اور دہشت گردوں کو ٹریننگ دے کر ہندوستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ (Union Defence Minister Rajnath Singh) نے کہا، ’دو جنگ ہارنے کے بعد، ہمارے ایک پڑوسی ملک (پاکستان) نے ایک پراکسی وار شروع کیا ہے اور دہشت گردی اس کی پالیسی کا ایک مرکزی حصہ بن گیا ہے۔ یہ ہتھیار، فنڈ اور دہشت گردوں کو ٹریننگ دے کر ہندوستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ (Union Defence Minister Rajnath Singh) نے کہا، ’دو جنگ ہارنے کے بعد، ہمارے ایک پڑوسی ملک (پاکستان) نے ایک پراکسی وار شروع کیا ہے اور دہشت گردی اس کی پالیسی کا ایک مرکزی حصہ بن گیا ہے۔ یہ ہتھیار، فنڈ اور دہشت گردوں کو ٹریننگ دے کر ہندوستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ (Union Defence Minister Rajnath Singh) نے پاکستان کا نام لئے بغیرکہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی آج صرف ہماری طاقت کے سبب کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نےکہا کہ سال 2016 میں سرحد پار سے کئے گئے حملوں نے ہماری ذہنیت کو بدل دیا اور اس کے بعد سال 2019 میں بالا کوٹ ہوائی حملے سے اسے مزید مضبوطی ملی ہے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان ضرورت پڑنے پر اپنے مخالفین کے خلاف دہشت گردی مخالف مہم چلانے سے بھی نہیں ہچکے گا۔ راجناتھ سنگھ نے یہ باتیں تمل ناڈو کے ویلنگٹن میں ڈیفنس سروسیز اسٹاف کالج (DSSC) میں کہی۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان سرحد پر چیلنجز کے باوجود، ملک کی قومی سلامتی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

      راجناتھ سنگھ نے کہا،’دو جنگ ہارنے کے بعد، ہمارے ایک پڑوسی ملک (پاکستان) نے ایک پراکسی وار شروع کیا ہے اور دہشت گردی اس کی پالیسی کا ایک مرکزی حصہ بن گیا ہے۔ یہ ہتھیار، فنڈ اور دہشت گردوں کو ٹریننگ دے کر ہندوستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔ سرحد پر چیلنجز کے باوجود عام آدمی کو بھروسہ ہے کہ ہندوستان کی قومی سلامتی سے کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ اعتماد دھیرے دھیرے مضبوط ہوتا گیا کہ ہندوستان نہ صرف اپنی زمین پر دہشت گردی کا خاتمہ کرے گا، بلکہ ضرورت پڑنے پر پڑوسیوں کے زمین پر بھی حملہ کرنے سے بھی نہیں ہچکے گا‘۔



      افغانستان نے سوچنے کو مجبور کیا

      افغانستان کے تازہ حالات پر وزیر دفاع نے کہا، ’افغانستان میں بدلتے حالات اس کی ایک تازہ اور اہم مثال ہے۔ ان حالات نے آج ہر ایک ملک کو اپنی پالیسی سے متعلق سوچنے کے لئے مجبور کردیا ہے۔ QUAD کو ان باتوں کو دھیان رکھ کر تشکیل کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دشمن کے خلاف جمع ہوکر جنگ کرنے کے لئے نئے گروپ ہوں گے۔ ان میں نئے دور کے مطابق، زیادہ خطرناک، بریگیڈ کے سائز کے چست اور پھرتیلے اور خود پر منحصر ہونے والے جنگجو بنائے جائیں گے۔

      بڑی تبدیلی کا اشارہ

      وزارت دفاع قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کئی تبدیلیاں بھی کرے گا۔ راجناتھ سنگھ نے کہا، ’تیزی سے بدلتے ہوئے بین الاقوامی اور قومی سلامتی حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے اپنی سیکورٹی سے متعلق پالیسیوں میں نہ صرف فوری بلکہ مستقبل کو دیکھتے ہوئے تبدیلیاں کی ہیں۔ 15 اگست 2019 کو چیف ڈیفنس آف اسٹاف (سی ڈی ایس) مقرر کرنے کے اعلان کے ساتھ، یہ واضح طور پر اشارہ دیا گیا تھا کہ ماضی میں سخت فیصلے لینے کی جو جھجھک تھی، وہ اب گزرے ہوئے دن کی بات ہوگئی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: