உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ساورکر کی حمایت میں راجناتھ کے بیان پر اسدالدین اویسی کا ردعمل، بولے وہ مسخ شدہ تاریخ پیش کررہے ہیں

    Youtube Video

    ساورکر کی حمایت میں راجناتھ کے بیان پر اسدالدین اویسی کاردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسخ شدہ تاریخ پیش کررہے ہیں ۔

    • Share this:
      ساورکر کی حمایت میں راجناتھ کے بیان پر اسدالدین اویسی کاردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسخ شدہ تاریخ پیش کررہے ہیں ۔ اگریہی چلتارہاتو وہ مہماتما گاندھی کی جگہ ساورکر کو بابائے قوم بنادیں گے۔  ونایک دامودر ساورکر جنہیں ان کے مداح ویر ساورکر کے لقب سے ملقب کرتے ہیں۔لیکن دوسری طرف ساورکر کے حوالےسے کہاجاتا ہے کہ انہوں نے انگریزوں کے سامنےگھٹنے ٹیک دیے تھے۔قید وبند کی صعوبتوں سے پریشان ہو کر انہوں نے برطانوی حکومت کے سامنے کئی رحم کی عرضیاں بھیجی تھیں۔

      اس حوالے سے وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے ایک پروگرام میں ان باتوں کو افواہوں سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ ساورکر کے حوالےسے جھوٹ پھیلایاجاتا ہے۔یہ بار بار کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جیل سے رہائی کے لیے برطانوی حکومت کے سامنے رحم کی درخواستیں دائر کیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مہاتما گاندھی نے ان سے رحم کی درخواستیں دائر کرنے کو کہا تھا۔

      وہیں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت Mohan Bhagwat نے کہا کہ ویر ساورکر Veer Savarakar کے ہندوتوا Hindutva نظریے نے کبھی بھی لوگوں کو ان کی تہذیب و ثقافت اور دیوتا کی پوجا کرنے کے طریقہ کار کی بنیاد پر فرق نہیں کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ساورکر کہتے تھے کہ ہم فرق کیوں کرتے ہیں؟ ہم ایک ہی مادر وطن کے بیٹے ہیں، ہم آپس میں سب بھائی بھائی ہیں۔ عبادت کے مختلف طریقے ہمارے ملک کی روایت رہے ہیں۔ ہم مل کر ملک کے لیے لڑ رہے ہیں‘‘۔

      موہن بھاگوت نے ان خیالات کا اظہار نئی کتاب ’ویر ساورکر: دی مین ہاوڈ کوڈ روڈ ٹو پارٹیشن‘ Veer Savarkar: The Man Who Could Have Prevented Partition کے رسم اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ساورکر نے اردو میں بہت سی غزلیں بھی لکھی ہیں۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے دشمن نہیں تھے۔


      ہندوستانی سماج میں ہندوتوا اور اتحاد
      انھوں نے کہا کہ کئی لوگوں نے ہندوستانی سماج میں ہندوتوا اور اتحاد کے بارے میں بات کی، یہ صرف اتنا تھا کہ ساورکر نے اس کے بارے میں ہمیشہ اور بھرپور انداز میں بات کی اور اب اتنے سال کے بعد یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اگر ہر کوئی اس طرح بات کرتا تو ملک کی کوئی تقسیم نہ ہوتی۔ تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کرنے والے مسلمانوں کا اُس ملک میں کوئی وقار نہیں ہے، کیونکہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: