உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پارلیمنٹ میں بولے راجناتھ : کشمیر میں صورت حال تیزی سے بہتر ہو رہی ہے

    نئی دہلی۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جموں کشمیر میں دہشت گردی پھیلا کر ماحول بگاڑنے کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آج مطلع کیا کہ وہاں کے موجودہ حالات میں سدھار ہورہے ہیں ۔

    نئی دہلی۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جموں کشمیر میں دہشت گردی پھیلا کر ماحول بگاڑنے کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آج مطلع کیا کہ وہاں کے موجودہ حالات میں سدھار ہورہے ہیں ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ وزیر داخلہ راج ناتھ  سنگھ نے جموں کشمیر میں دہشت گردی پھیلا کر ماحول بگاڑنے کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آج مطلع کیا کہ وہاں کے موجودہ حالات میں سدھار ہورہے ہیں ۔ جموں کشمیر کے موجودہ حالات پر لوک سبھا میں کل ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ انہوں نے ریاست کی وزیر اعلٰی محبوبہ مفتی سے بات کی ہے اور انہوں نے یقین دلایا ہے کہ صورتحال تیزی سے بہتر ہورہی ہے ۔ کئی جگہ رات کا کرفیو ہٹا دیا گیا ہے۔ انٹر نیٹ کی سہولت بحال کردی گئی ہے۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ وہ خود وہاں جا کر صورتحال کا جائزہ لینا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے محترمہ مفتی سے بات کی اور ان سے کہا کہ وہ خود آکر کشمیر کے لوگوں سے مل کر بات سننا چاہتے ہیں اس لئے راج بھون کی بجائے گیسٹ ہاوس میں انکےٹہرنے کا انتظام کیا جائے۔ وزیر اعلی نے انہیں بتایا کہ ریاست کے حالات ٹھیک ہو رہے ہیں اور وہ خود ان سے ملنے کے لئے دہلی آ رہی ہیں ۔


      مسٹر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے موجودہ حالات پر ایوان میں بدھ کے روز  ہوئی بحث میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے 28 ممبران نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا "اس بحث میں جتنے لوگوں نے حصہ لیا ان کی بات سے میرا یہ خیال مضبوط ہوا ہے کہ ہمارے نظریات علیحدہ ہو سکتے ہیں لیکن جب ملک کو کسی بڑے بحران کا سامنا ہوتا ہے تو سب لوگ متحد ہو کر اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ بحث کے دوران کچھ ممبران نے کشمیر میں پارلیمانی دستہ بھیجنے کی بات کی ہے۔ کچھ ممبران نے تشدد کے دوران سلامتی دستوں کی جانب سے وہاں ليتھل گن کا استعمال کرنے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ليتھل گن کا استعمال بھیڑ کو روکنے کے لئے پہلے بھی ہوا ہے۔سب سے پہلے 2010 میں اس کا استعمال ہوا تھا اور اس وقت اس کی وجہ سے چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 100 لوگوں کی آنکھوں میں چوٹ آئی تھی جبکہ پانچ افراد کی آنکھوں کی روشنی پوری طرح سے ختم ہو گئی تھی۔


      وزیر داخلہ نے کہا کہ ليتھل گن کا استعمال خطرناک ہے اور ہمیں اس کا متبال تلاش کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اس کے لئے ماہرین کی کمیٹی بنا رہے ہیں جو تجویز دے گی کہ بھیڑ کو روکنے کے لئے ليتھل گن کا متبادل کیا ہو سکتا ہے۔

      First published: