ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

غیرموثرطلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی کا حکومت پرکوئی دباونہیں تھا: مجید میمن

قانون کے ماہرمجید میمن نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے تعلق سے کسی طرح کی قانون سازی کے لئے مرکزی حکومت پرسپریم کورٹ کی طرف سے کوئی دباونہیں ڈالا گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 03, 2019 12:09 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
غیرموثرطلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی کا حکومت پرکوئی دباونہیں تھا: مجید میمن
ممبرپارلیمنٹ مجید میمن: فائل فوٹو

نئی دہلی: راجیہ سبھا کے رکن اور فوجداری قانون کے ماہرمجید میمن نے آج کہا کہ طلاق ثلاثہ کے تعلق سے کسی طرح کی قانون سازی کے لئے مرکزی حکومت پرسپریم کورٹ کی طرف سے کوئی دباونہیں ڈالا گیا۔ یہاں ایک اخباری ملاقات میں مجید میمن نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے جس فیصلے کی دہائی دے رہی ہے وہ اقلیتی فیصلہ تھا۔ البتہ اکثریت سے کئے جانے والےعدالت عظمی کے فیصلے میں تو طلاق ثلاثہ کو موثر حالت میں چھوڑاہی نہیں گیا۔

مجید میمن نے کہا کہ اکثریت والا عدالتی فیصلہ عملاً آرٹیکل 141 کی رو سے قانون کا درجہ حاصل کر لیتا ہے، جس کا ہرکسی کو پابند ہونا چاہئے۔اس طورسے حکومت پر لازم ہے کہ وہ مزید کسی قسم کی قانون سازی میں الجھنے یا پڑنے کے بجائے آرٹیکل 142 کے تحت قدم اٹھائے یعنی سپریم کورٹ کے قانون کو نافذ کرے۔

مجید میمن کے مطابق 22 اگست 2017 کو سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا تھا اس کے بعد سے طلاق ثلاثہ اپنا وجود ہی نہیں رکھتی اورجوچیز وجود ہی نہیں رکھتی، اُسےجرم ٹھہرانے کے لئے مسلم خواتین کے تحفظ کے نام پر کسی طرح کا بل لانے کی مطلق کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔

قانون کے ماہرمیمن نے استدلال کیا کہ راجیہ سبھا میں سابقہ موقع پرمنظور ی کے مرحلے سے گزرنے میں ناکامی کے بعد ایک بارپھرنزاع کی شکل اختیارکرلینے والا یہ بل مبنی بر بدنیتی ہے ورنہ کیا وجہ ہے ماب لنچنگ کا شکار ہونے والوں کی بیواوں، ماوں، بہنوں اور بیٹیوں سے کوئی سرگرم عملی ہمدردی نہیں دکھائی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں مجید میمن نے کہا کہ 22 اگست 2017 کے بعد سے طلاق بدعت کے جن 477 واقعات کی حکومت دہائی دیتے نہیں تھک رہی ہے وہ طلاقیں عملاً واقع ہی نہیں ہوئیں۔ اور ان 477 واقعات کے تعلق سے بھی ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ متعلقہ زن و شو کو یہ بتایا جاتا کہ چونکہ ان میں طلاقیں ہوئی ہی نہیں لہذا اُن کے مابین حقوق زوجیت بدستور غیر متاثر ہیں۔

انہوں نے حکومت کے اس موقف کو بھی کہ سپریم کورٹ نے طلاق بدعت کے ظلم کا شکار ہونے والی عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ، دو لحاظ سے غلط ٹھہرایا ۔ اول یہ کہ جب طلاق ہوئی ہی نہیں تو پھر بیوی پر ظلم کہاں ہوا اور کسی غیر مظلومہ کی مدد کیسی؟ دوئم یہ کہ سپریم کورٹ کا اقلیتی فیصلہ کوئی قانونی مینڈیٹ نہیں۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر قانون نے بل کو سیلیکٹ کمیٹی کے سپرد کرنے کی سرکاری مخالفت کا ایک بھی معقول جوازنہیں بتایا۔
First published: Jan 03, 2019 12:09 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading