ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

راجیہ سبھا میں جے این یو تنازع پر بحث ، اپوزیشن نے لیا حکومت کو آڑے ہاتھوں

نئی دہلی : حیدرآباد یونیورسٹی میں دلت طالب علم روہت ویمولا کی خود کشی اور جے این یو تنازع پر آج بھی راجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ ہو رہا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے حکومت پر تیکھا حملہ کرتے ہوئے دہلی میں لا اینڈ آرڈر پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں جان بوجھ کر ماحول خراب کیا گیا ، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ملک کہ شبیہ خراب ہوئی۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Feb 25, 2016 04:23 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
راجیہ سبھا میں جے این یو تنازع پر بحث ، اپوزیشن نے لیا حکومت کو آڑے ہاتھوں
file photo

نئی دہلی : حیدرآباد یونیورسٹی میں دلت طالب علم روہت ویمولا کی خود کشی اور جے این یو تنازع پر آج بھی راجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ ہو رہا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے حکومت پر تیکھا حملہ کرتے ہوئے دہلی میں لا اینڈ آرڈر پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں جان بوجھ کر ماحول خراب کیا گیا ، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ملک کہ شبیہ خراب ہوئی۔


جے این یو معاملے پر انہوں نے کہا کہ حکومت ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی کرتی تو کوئی نہیں روکتا ، لیکن حکومت ایسا نہیں کر رہی ہے۔ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں تشدد پر انهوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے منصوبہ بند طریقے سے تشدد برپا کیا گیا ۔ لوگوں کو ایسی تصویر دکھائی گئی ہے کہ ایک نظریہ کے لوگ قوم پرست ہیں ، باقی تمام غدار ہیں۔


کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے جے این یو جانے پر بی جے پی لیڈروں کی طرف سے حملہ پر انہوں پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس تنظیم سے آتے ہیں ، جنھوں نے ملک کے لئے قربانیاں دی ہیں۔


وہیں کرن رجیجو نے آنند شرما کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا لوگ دہلی پولیس کی شیبہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم عدالت میں آنسو گیس کے گولے نہیں چھوڑ سکتے ہیں ، کیونکہ اس سے کورٹ کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران پیش آئے واقعات سے دہلی پولیس نے بہت اچھے طریقہ سے نمٹا ہے ، تو ایسے میں دہلی میں لا اینڈ آرڈر پر کوئی سوال نہیں اٹھتا۔


اس سے پہلے سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری نے ان واقعات کی تحقیقات کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جے این یو واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قابل اعتماد ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کی جانی چاہئے ، لیکن پوری یونیورسٹی کو سزا دینا اور ان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے لوگ آج حکومت کے علاوہ انتظامیہ میں بھی اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ ایسے میں پوری یونیورسٹی پر انگلی اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور دہلی پولیس پر بھی جم کر نشانہ سادھا ۔


یچوری نے عدالت کے احاطے میں طلبہ اور صحافیوں کے ساتھ وکلاء کی طرف سے مارپیٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس اب طلبہ سے کہہ رہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے قصور ثابت کریں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں انصاف کے بدلے پٹائی کی گئی اور اس میں بی جے پی کا ایک رکن اسمبلی بھی شامل تھا۔


انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر نیویارک ٹائمز کے ساتھ ہی یورپ کے ایک مشہور اخبار تک میں اداریہ شائع ہوا ، جس میں حکومت اور پولیس وغیرہ کے بارے میں منفی تبصرہ کیا گیا ہے۔


یچوری نے کہا کہ لوگوں کو آئین کے تحت حقوق ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپنے مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی آزادی کی بات کر رہتے ہیں ، لیکن یہ آزادی منواد، سنگھواد اور بھوک وغیرہ سے ہونی چاہئے۔ بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ جو کہیں گے، وہی قوم پرستی نہیں ہے۔

First published: Feb 25, 2016 04:23 PM IST