உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راٹھور کا پاک پر نشانہ، کہا ہندستان اپنے دشمنوں کا صفایا کرنے کو تیار

    نئی دہلی۔ مرکزی وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کہا کہ داؤد ابراہیم اور لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید جیسے ہندستان کے دشمنوں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہندستان ان کے بارے میں سوچ نہیں رہا ہے۔

    نئی دہلی۔ مرکزی وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کہا کہ داؤد ابراہیم اور لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید جیسے ہندستان کے دشمنوں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہندستان ان کے بارے میں سوچ نہیں رہا ہے۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ مرکزی وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کہا کہ داؤد ابراہیم اور لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید جیسے ہندستان کے دشمنوں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہندستان ان کے بارے میں سوچ نہیں رہا ہے۔ راٹھور سے جب یہ پوچھا گیا کہ 1993 کے ممبئی دھماکوں کے اہم ملزم داؤد ابراہیم اور ہندستان کو انتہائی مطلوب سعید کے بارے میں حکومت کیا کر رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دشمنوں کا صفایا کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔

      ایک نجی چینل پر جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ داؤد ابراہیم جیسے مفرور اور سعید پاکستان میں بڑے آرام سے رہ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہندستان کا دشمن جہاں کہیں بھی ہو، اسے یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہندستان اس بارے میں کچھ نہیں سوچ رہا ہے۔

      مودی حکومت کے 15 ماہ گزر جانے کے بعد بھی پاکستان میں پناہ لئے مفرور کے خلاف ڈوسئیر تیار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کئے جانے کے سوال پر راٹھور نے کہا کہ سام، دام، دنڈ، بھید، تمام طریقوں کا استعمال کیا جائے گا۔ ڈوسئیر کے علاوہ دوسرے طریقے بھی استعمال کئے جائیں گے۔ جب کبھی کچھ ہو گا، آپ کو خبر مل جائے گی۔

      خفیہ مہم ہونے کے سوال پر فوج میں کرنل رہے وزیر نے کہا کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں، لیکن اس سے پہلے اس کا اعلان نہیں کریں گے۔ مہم کے بعد، ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا ہے، یہ اس پر منحصر ہے کہ کیا حکومت کہتی ہے کہ یہ خفیہ مہم ہے یا پھر خصوصی مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ مہم کا کبھی پتہ نہیں چل سکتا لیکن خصوصی مہم کے بارے میں اس کے مکمل ہونے پر معلومات دی جا سکتی ہے۔

      راٹھور نے کہا کہ خصوصی مہم اس کے ہو جانے پر عوامی کیا جاتا ہے۔ یہ حکومت پر منحصر ہے کہ یہ کب کیا جائے اور کون جانتا ہے کہ یہ اب ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا ہے۔ لیکن یہ ہو جانے کے بعد ہی عوامی کیا جائے گا۔

       
      First published: