உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اگر آر ایس ایس مداخلت کرے ، تو بابری مسجد - رام جنم بھومی تنازع ہوسکتا ہے حل : ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

    ڈاکٹر ظفر الاسلام خان ۔ فوٹو نیوز 18

    ڈاکٹر ظفر الاسلام خان ۔ فوٹو نیوز 18

    یہ ملک ہی نہیں دنیا کو بھی معلوم ہے کہ آر ایس ایس ایک طاقتور تنظیم ہے ۔ ہندو تنظیموں میں بھی آر ایس ایس پہلے نمبر پر ہے ، اس لئے آر ایس ایس کی بات کو نظر انداز کیا جانا مشکل ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : یہ ملک ہی نہیں دنیا کو بھی معلوم ہے کہ آر ایس ایس ایک طاقتور تنظیم ہے ۔ ہندو تنظیموں میں بھی آر ایس ایس پہلے نمبر پر ہے ، اس لئے آر ایس ایس کی بات کو نظر انداز کیا جانا مشکل ہے ۔ اگر آر ایس ایس رام جنم بھومی - بابری مسجد تنازع میں مداخلت کرتا ہے کہ تو یہ مسئلہ سلجھ سکتا ہے ۔ نیوز 18 سے خاص بات چیت کرتے ہوئے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
      کچھ دنوں قبل بھی ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا تھا کہ عدالت کے باہر فیصلہ کرتے ہوئے مسجد کو دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا مسلمان آر ایس ایس کی مداخلت کو تسلیم کریں گے ، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ مسلمان آر ایس ایس کی پالیسی کو پسند نہیں کرتے ہیں یہ بات ہوسکتی ہے ، لیکن آر ایس ایس اور اس کے وجود کو تو مسلمان بھی مانتے ہیں ، اگر سبھی کے مفاد کی بات ہوگی ، تو تنازع کا سوال ہی کھڑا نہیں ہوتا ہے۔
      ادھر اس معاملہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بارے میں بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بورڈ کی مسلمانوں میں کافی مقبولیت ہے ، یہ ایک بڑا بورڈ ہے اور جب کوئی راستہ نکلے گا تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ بھی انکار کرے گا ۔ تاہم اس معاملہ میں شیعہ بورڈ کی دخل اندازی پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا سا بورڈ ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
      ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا ماننا ہے کہ اس معاملہ کو سیاسی دخل اندازی نے کافی زیادہ پیچیدہ بنادیا ہے ۔ پہلے یہ تنازع فیض آباد کی ایک کورٹ میں چل رہا تھا ، کسی بھی تنظیم کی کوئی دخل اندازی نہیں تھی ، بار بار ایک ہی بات بول کر عوام کے جذبات کو بھڑکایا جارہا ہے ۔ وہیں ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہبی اعتبار سے مسجد کی جگہ منتقل کی جاسکتی ہے ، قرآن اور حدیث میں بھی ایسا کہیں نہیں لکھا ہے کہ مسجد کی جگہ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔ عرب ، مصر اور لیبیا میں مسجد کی جگہ تبدیل کئے جانے کی مثالیں موجود ہیں۔

      babri
      اس سوال کے جواب میں کہ بابری مسجد وہاں پہلے سے تھی یا نہیں ، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا کہنا ہے کہ مسجد تو وہاں 500 سالوں سے ہے ، لیکن وہاں کن حالات میں مسجد بنائی گئی ، اس کا ابھی کوئی بھی ثبوت نہیں ملا ہے ، لیکن یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ اسے مغل بادشاہ بابر نے ہی بنوائی ہو ۔
      شری شری روی شنکر کی تجویز اور ان کی مداخلت پر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ اس معاملہ میں ہندو بھی شری شری کو قبول نہیں کررہے ہیں ، ان سے سوالات پوچھے جارہے ہیں کہ وہ کس حیثیت سے مداخلت کررہے ہیں۔
      سپریم کورٹ میں معاملہ زیر سماعت ہے ، اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ 70 سال سے عدالت میں یہ کیس چل رہا ہے ، اس تنازع کی وجہ سے ملک میں آئے دن دہشت ، لڑائی جھگڑے اور بیان بازی کا ماحول بنتا رہتا ہے ، تو اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم صرف عدالت کے فیصلہ کا انتظار کریں ، عدالت کے فیصلہ کے انتظار کے ساتھ ہی اس کے حل کا دوسرا طریقہ بھی نکالا جانا چاہئے ۔
      اس تنازع کی وجہ سے لڑائی جھگڑوں کے بارے میں انہوں نے بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کی رتھ یاترا کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر لڑائی جھگڑے ہوئے ، ماحول خراب ہوگیا ، لیکن آج اب اڈوانی جی بھی سوچتے ہوں گے تو انہیں پچھتاوا ہوتا ہوگا کہ یہ کیا ہوگیا۔
      First published: