ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اجودھیا معاملہ: وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بیان پربولیں تاکہ تنازعہ کھڑا کرنے کا موقع ملے: مسلم مذہبی رہنما

رام مندر- بابری مسجد تنازعہ کو لے کر ایک بارپھرسے ماحول گرم ہوگیا ہے۔ مندرتعمیرکے متعلق طرح طرح کی بیان بازیاں کی جارہی ہیں۔ تاہم مسلم مذہبی رہنماوں نے عوام سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔

  • Share this:
اجودھیا معاملہ: وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بیان پربولیں تاکہ تنازعہ کھڑا کرنے کا موقع ملے: مسلم مذہبی رہنما
بابری مسجد: فائل فوٹو

رام مندر- بابری مسجد تنازعہ کو لے کر ایک بارپھر سے ماحول گرم ہوگیا ہے۔ مندر تعمیرکے متعلق طرح طرح کی بیان بازیاں کی جارہی ہیں۔ اجودھیا میں لوگوں کی بھیڑجمع ہوگئی ہے۔ شیوسینا سربراہ ادھوٹھاکرے بھی اجودھیا پہنچ چکے ہیں، لیکن اس شورکے درمیان مسلم رہنماوں نے خاموشی اختیارکرلی ہے۔ کوئی بھی کچھ بولنے کے لئےتیارنہیں ہے۔ یہاں تک کہ دہلی کے شاہجہانی جامع مسجد کے امام مولانا سید احمد بخاری نے بھی اس مسئلے پربولنے سے انکارکردیا ہے۔


اجودھیا کے موجودہ ماحول پربات کرنے کے لئے نیوز 18 نے جب شیعہ مذہبی رہنما مولانا کل صادق سے بات کرنے کی کوشش کی توان کا موبئل مسلسل بند جارہا تھا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے رکن کمال فاروقی نے فون نہیں اٹھایا، انہوں نے میسیج کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔


شاہی امام مولانا سید احمد بخاری سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی منشا ہی یہ ہے کہ وہ کچھ کہیں اوراس پرہم کوئی سوال جواب کریں تو وہ اس پرایک ماحول کھڑا کردیں، لیکن ہم ایسا کوئی موقع کسی کو نہیں دیں گے۔  ایک دوسرے مذہبی رہنما مولانا خالد رشید فرنگی محلی سے بھی جب بات کی گئی توانہوں نے بھی بات نہیں کی۔


دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جتنا ہوسکے، مسلمانوں کو خاموشی اختیارکرنی چاہئے۔ کیونکہ ہمیں عدالت پربھروسہ ہے۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیرغورہے، اس لئے اس پرمسلمانوں کو بہت زیادہ نہیں گھبرانا چاہئے۔ دوسری بات یہ کہ کچھ لوگ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ ہم کچھ بولیں اوروہ اس کا فائدہ اٹھائیں۔

دوسری طرف مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدرڈاکٹرتسلیم احمد رحمانی کا کہنا ہے "مدھیہ پردیش اورراجستھان کے الیکشن کو متاثرکرنے کے لئے یہ سب کیا جارہا ہے۔ ماحول کوپوری طرح سے گرم کیا جارہا ہے۔ کہیں کوئی پتھررکھ کربی جے پی یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ انہوں نے مندرکی بنیاد رکھ دی ہے، یہ الیکشن کے دوران پیغام دیا جارہا ہے"۔

ڈاکٹرتسلیم رحمانی نے مزید کہا "مندرکے بہانے شیو سینا مہاراشٹرمیں اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو پھرسے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وشو ہندو پریشد بھی ایک ماہ کا پروگرام چلاکر سرمائی اجلاس سیشن میں رام مندرکے لئے بل لانے کا دباو حکومت پربنانے کا کام کررہی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں معاملہ ہونے کے بعد بھی کورٹ کی توہین کرنے والی بیان بازی کی جارہی ہے، جوغلط ہے"۔

وہیں آل انڈیا خواتین مسلم پرسنل لا بورڈ کی قومی صدر شائستہ عنبراس بارے میں کہتی ہیں " جو سب ہورہا ہے وہ ایک فریق کو خوش کرنے اوردوسرے فریق کو دبانے کے لئے ہورہا ہے۔ یہ صرف ایک سیاست ہے، جو دعوے کئے جارہے ہیں، ویسا کچھ نہیں ہوگا۔ ہمارے ہندو بھائی بھی اس سب کو پسند نہیں کریں گے۔ ملک میں عدالت اورآئین سے بڑھ کرکچھ نہیں ہے۔ اگرکوئی عدالت اورآئین کو طاق پررکھ کر کرتا ہے تووہ محب وطن نہٰں ملک مخالف ہے۔
 ناصرحسین کی رپورٹ



First published: Nov 24, 2018 07:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading