ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ نے پھر مسترد کی آسارام کی ضمانت کی عرضی، کہا : حراست میں ہی کروائیں علاج

جسٹس اے کے سکری اور جسٹس این وی رمنا کی بنچ نے آسارام کی عبوری ضمانت کی عرضی مسترد کردی۔

  • Agencies
  • Last Updated: Oct 24, 2016 09:15 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سپریم کورٹ نے پھر مسترد کی آسارام کی ضمانت کی عرضی، کہا : حراست میں ہی کروائیں علاج
Getty Images

نئی دہلی: ہائی کورٹ نے نابالغ لڑکی سے عصمت دری کے الزام میں جیل میں بند آسارام کو عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دینے سے آج ایک بار پھر انکار کردیا۔ جسٹس اے کے سکری اور جسٹس این وی رمنا کی بنچ نے آسارام کی عبوری ضمانت کی عرضی مسترد کردی۔ آسارام کے وکیل نے اپنے موکل کی صحت خراب ہونے کا حوالہ دے کر ایک ماہ کی عبوری ضمانت کی عرضی دائر کی تھی لیکن عدالت عظمی نے اسے منظور کرنے سے انکار کردیا۔

جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس این وی رمن کی بنچ نے کہا کہ اگر آسارام علاج کرانا چاہتے ہیں تو وہ عدالتی حراست میں رہتے ہوئے جودھپور کے ایمس یا راجستھان آیور ویدک اسپتال میں علاج کرا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ عدالت نے آسام رام کی معمول کی ضمانت کی عرضی پر گجرات حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 21نومبر کو ہوگی۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی آسا رام اپنی خرابی صحت کا حوالہ دے کر کئی مرتبہ ضمانت منظور کرنے کی اپیل کرچکے ہیں جسے عدالت مسترد کرتی رہی ہے۔ آسارام اور ان کے بیٹے نارائن سائیں پر دو بہنوں کے ساتھ عصمت دری کرنے کاالزام ہے۔

First published: Oct 24, 2016 09:15 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading