உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شادی کا جھانسہ دے کر خاتون سے ایک سال تک آبروریزی، مخالفت کرنے پر دی جان سے مارنے کی دھمکی

    شادی کا جھانسہ دے کر خاتون سے ایک سال تک آبروریزی، مخالفت کرنے پر دی جان سے مارنے کی دھمکی

    شادی کا جھانسہ دے کر خاتون سے ایک سال تک آبروریزی، مخالفت کرنے پر دی جان سے مارنے کی دھمکی

    Rape in Palwal: ملزم نوجوان متاثرہ کو شادی کرنے کا جھانسہ دے کر آبروریزی کرتا رہا۔ متاثرہ نے گزشتہ 28 اگست کو اجیت سے شادی کرنے کی بات کہی تو اس نے واضح طور پر انکار کردیا اور مارپیٹ کی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      پلول: ہریانہ کے پلول ضلع میں شادی (Marriage) کا جھانسہ دے کر ایک سال تک خاتون کے ساتھ آبروریزی (Rape) کی گئی۔ بعد میں ملزم نے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ متاثرہ نے مخالفت کی تو ملزم نے متاثرہ کے ساتھ مارپیٹ کی۔ کیمپ تھانہ پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر نامزد ملزم کے خلاف معاملہ درج کرلیا ہے، لیکن ملزم پولیس گرفت سے باہر ہے۔

      پولیس جانچ افسر اے ایس آئی رینو نے بتایا کہ ایک متاثرہ خاتون نے شکایت درج کرائی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے الگ مڈھناکا گاوں کے باشندہ اجیت کے ساتھ 25 ستمبر سال 2020 سے پلول کی ایک کالونی میں کرائے کے مکان میں رہنے لگی۔ اجیت متاثرہ کو شادی کرنے کا جھانسہ دے کر آبروریزی کرتا رہا۔ متاثرہ نے گزشتہ 28 اگست کو اجیت سے شادی کرنے کی بات کہی تو اس نے صاف طور پر انکار کردیا اور مارپیٹ کی۔

      متاثرہ نے ملزم کے خلاف پولیس کو شکایت دی۔ پولیس نے متاثرہ کی شکایت کی بنیاد پر ملزم کے خلاف معاملہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔

      اجیت نامی شخص متاثرہ کو شادی کرنے کا جھانسہ دے کر آبروریزی کرتا رہا۔
      اجیت نامی شخص متاثرہ کو شادی کرنے کا جھانسہ دے کر آبروریزی کرتا رہا۔


      واضح رہے کہ ضلع میں 6 دن پہلے بھی آبروریزی کا ایک ایسا ہی معاملہ سامنے آیا تھا۔ جہاں شادی کا جھانسہ دے کر 26 سالہ خاتون کا چار سال تک آبروریزی کی گئی۔ خاتون کے حاملہ ہونے پر ملزم نے اس کا اسقاط حمل کرا دیا۔ متاثرہ نے مخالفت کی تو ملزم کی فیملی نے اس کے ساتھ مارپیٹ کرکے جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ کیمپ تھانہ پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر چار نامزد ملزمین کے خلاف معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے۔

      پلول پولیس جانچ افسر ایس آئی سریکھا نے بتایا کہ ایک خاتون نے شکایت درج کرائی ہے کہ اس کا شوہر سے طلاق کا معاملہ چل رہا ہے اور اپنی زندگی گزارنے کے لئے ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرنے لگی۔ اسی کمپنی میں سہی گاوں (فریدآباد) کے باشندہ نیرج بھی کام کرتا ہے۔ نیرج کو جیسے ہی متاثرہ کے طلاق کے بارے میں پتہ چلا تو وہ اس سے شادی کرنے کی بات کہنے لگا، جس کے بعد متاثرہ فون پر نیرج سے بات کرنے لگی۔ نیرج نے شادی کی یقین دہانی کراکر متاثرہ کی آبروریزی کیا۔ نیرج وقت وقت پریقین دہانی کراکر آبروریزی کرتا رہا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: