உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹویٹر پر 20-30 روپئے میں بیچا جا رہا ہے بچیوں کا فحش ویڈیو، دہلی خواتین کمیشن کی صدر کا دعویٰ

    ٹوئٹر پر نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری کی ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ لڑکیوں کی فحش ویڈیوز 20-30 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔ سواتی مالیوال نے کہا کہ سمن کا جواب دینے کے لیے ٹوئٹر اور دہلی پولیس کو 26 ستمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔

    ٹوئٹر پر نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری کی ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ لڑکیوں کی فحش ویڈیوز 20-30 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔ سواتی مالیوال نے کہا کہ سمن کا جواب دینے کے لیے ٹوئٹر اور دہلی پولیس کو 26 ستمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔

    ٹوئٹر پر نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری کی ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ لڑکیوں کی فحش ویڈیوز 20-30 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔ سواتی مالیوال نے کہا کہ سمن کا جواب دینے کے لیے ٹوئٹر اور دہلی پولیس کو 26 ستمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی پولیس (Delhi Police) اور مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کو دہلی کمیشن برائے خواتین (DCW) کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے منگل کو نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مائیکروبلاگنگ سائٹ پر چائلڈ پورنوگرافی اور اس کا کاروبار کیا جا رہا ہے۔ اس سے متعلق کچھ ویڈیوز ٹویٹر پر 20-30 روپے میں بیچے گئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایسی ویڈیوز کو ہٹانے میں ناکام رہا ہے۔ سواتی مالیوال نے دہلی پولیس سے اس طرح کے ویڈیو کو فلمانے اور اپلوڈ کرنے میں شامل لوگوں کے ساتھ ساتھ متاثرین اور ملزموں کی پہچان کرنے کیلئے ایف آئی آر درج کرنے کرنے کو کہا ہے۔

      سواتی مالیوال نے کہا کہ ٹوئٹر جو کہ دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے، بچوں کی فحش ویڈیوز بیچنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ٹوئٹر پر نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری کی ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ لڑکیوں کی فحش ویڈیوز 20-30 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔ سواتی مالیوال نے کہا کہ سمن کا جواب دینے کے لیے ٹوئٹر اور دہلی پولیس کو 26 ستمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔


      ہائی وے پر پلٹ گیا بڑا ٹرک، گاڑی میں سے باہر گر گئی ایسی چیزیں جسےدیکھ کر شرمندہ ہوگئے لوگ

      موت کے خطرے کو کم کر سکتی ہے دو کپ چائے، تحقیق سے ہوا یہ انکشاف

      کمپنیاں بیرون ملک قوانین کی تعمیل کرتی ہیں۔
      سواتی مالیوال نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’ہزاروں لوگوں نے نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری کی ریکارڈنگ شیئر کی ہے۔ خواتین کے نہانے کی ویڈیوز خفیہ کیمروں کے ذریعے ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں بیرون ملک قوانین کی پاسداری کرتی ہیں اور ہندوستان میں خواتین کی فحاشی اور عصمت دری سے آنکھیں موند لیتی ہے، سواتی مالیوال نے کہا ٹوئٹر پر سوال کیا گیا تھا کہ اس طرح کے ویڈیو پلیٹ فارم پر کیسے موجود ہیں اور مواد کی نمائش کے لیے اس کی کیا پالیسیاں ہیں؟
      Published by:Sana Naeem
      First published: