உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ریزرو بینک آف انڈیا کا نوٹ بندی کی وجہ بتانے سے انکار

     آر بی آئی نے اس بارے میں بھی کسی طرح کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا کہ جتنے ویلیو کی كرنسي ختم کی گئی ہے، نئی كرنسي کے ذریعے اس خلیج کو پاٹنے میں کتنا وقت لگے گا

    آر بی آئی نے اس بارے میں بھی کسی طرح کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا کہ جتنے ویلیو کی كرنسي ختم کی گئی ہے، نئی كرنسي کے ذریعے اس خلیج کو پاٹنے میں کتنا وقت لگے گا

    آر بی آئی نے اس بارے میں بھی کسی طرح کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا کہ جتنے ویلیو کی كرنسي ختم کی گئی ہے، نئی كرنسي کے ذریعے اس خلیج کو پاٹنے میں کتنا وقت لگے گا

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : 8 نومبر کو 500 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹوں کو بین کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا تھا، ریزرو بینک آف انڈیا نے اس کی وجہ بتانے سے انکار کر دیا ہے۔ آر بی آئی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں معلومات کو عام نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آر بی آئی نے اس بارے میں بھی کسی طرح کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا کہ جتنے ویلیو کی كرنسي ختم کی گئی ہے، نئی كرنسي کے ذریعے اس خلیج کو پاٹنے میں کتنا وقت لگے گا۔
      قابل ذکر ہے کہ حق اطلاعات ایکٹ (آر ٹی آئی) کے تحت آر بی آئی سے اس سلسلہ میں معلومات طلب کی گئی تھیں۔ اس کے جواب میں آر بی آئی نے کہا کہ 'جو معلومات طلب کی گئی ہیں ، اس کی نوعیت کسی واقعہ کے مستقبل کی تاریخ کے بارے میں جاننا ہے اور یہ آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ دو (ایف ) کے تحت آر ٹی آئی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔
      آر بی آئی نے نوٹ بندی کے پیچھے کی وجہ بتانے سے بھی انکار کر دیا۔ اس کے پیچھے اس نے حق اطلاعات ایکٹ کی دفعہ 8(1) (اے) کا حوالہ دیا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق 'ایسی معلومات ، جس کو عام کئے جانے سے ہندوستان کی خود مختاری اور اتحاد، سیکورٹی، پالیسی ، سائنسی یا اقتصادی مفادات اور غیر ملکی ریاست کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچتا ہو، اس کو عام نہیں کیا جا سکتا۔
      آر ٹی آئی کے ذریعہ مانگی گئی معلومات دینے سے انکار کرتے ہوئے اگرچہ آر بی آئی نے یہ نہیں بتایا کہ اس معاملہ میں کس طرح آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ کیونکہ یہ فیصلہ تو پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔
      سابق مرکزی انفارمیشن کمشنر شیلیش گاندھی کے مطابق اس معاملہ میں جو معلومات طلب کی گئی ہیں ، وہ کسی بھی چھوٹ کی دفعہ کے تحت نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ قانون بہت واضح ہے کہ جب کوئی عوامی ادارہ اطلاع دینے سے انکار کرتا ہے ، تو اسے واضح طور پر بتانا ہوگا کہ قانون کی کس دفعہ کے تحت اس کو چھوٹ مل رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ریزرو بینک نے حال ہی میں نوٹ بندی کے سلسلے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگوں کی تفصیلات دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
      First published: