உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    RBI MPC: ریزرو بنک آف انڈیا کی دو ماہی مانیٹری پالیسی میں کیا ہے خاص؟ جانیے یہ اہم چیزیں

    ریزرو بینک آف انڈیا (Reserve Bank of India)

    ریزرو بینک آف انڈیا (Reserve Bank of India)

    جون میں پچھلے پالیسی بیان میں آر بی آئی نے موجودہ مالی سال 23-2022 کے لیے افراط زر کی پیشن گوئی کو 6.4 فیصد پر رکھا تھا، اس کے مقابلے میں پہلے کی پیش گوئی 5.7 فیصد تھی۔ ریٹنگ ایجنسی کرسیل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال 23 میں خوردہ افراط زر 6.8 فیصد رہے گا۔

    • Share this:
      ریزرو بنک آف انڈیا (RBI) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) آج جمعہ یعنی 5 اگست کو کلیدی شرح سود کے بارے میں اپنے فیصلے کا اعلان کرنے والی ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر مرکزی بینک پالیسی کی شرحوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور افراط زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں یہ اعلان بڑا معنی خیز ہوسکتا ہے۔

      نیوز 18 ڈاٹ کام کے ذریعہ کرائے گئے تجزیہ کاروں کے سروے میں ریپو ریٹ میں 25 تا 50 بیسس پوائنٹس (bps) کے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ وہیں زیادہ تر ماہرین 35 بیسس پوائنٹس اضافے کی بات کر رہے ہیں۔ آج کی مانیٹری پالیسی کے اعلان میں جن چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہیں:

      شرح سود کے فیصلے

      ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کمیٹی جمعہ کو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کلیدی ریپو ریٹ میں اضافہ کرے گی۔ معاشی ماہرین پالیسی کی شرح میں 25 بیس پوائنٹ اضافے سے 50 بیس پوائنٹ اضافے پر اختلاف رکھتے ہیں۔ ریپو ریٹ وہ شرح ہے جس پر آر بی آئی بینکوں کو قلیل مدتی قرض فراہم کرتا ہے۔

      ریپو کے علاوہ بینک ریٹ (وہ شرح جس پر آر بی آئی طویل مدتی مدت کے لیے بینکوں کو قرض دیتا ہے) پر مانیٹری پالیسی کمیٹی کا فیصلہ ہوگا۔ ریورس ریپو ریٹ (وہ شرح جس پر آر بی آئی بینکوں سے قرض لیتا ہے)، اسٹینڈنگ ڈپازٹ سہولت (SDF) اور مارجنل سٹینڈنگ فیسیلٹی (MSF) پر نظر رکھی جائے گی۔

      جون میں گزشتہ دو ماہی مانیٹری پالیسی میں آر بی آئی کے ریٹ سیٹنگ پینل نے ریورس ریپو ریٹ کو 3.35 فیصد، بینک ریٹ 5.15 فیصد، ایس ڈی ایف کو 4.65 فیصد اور ایم ایس ایف پر 5.15 فیصد مقرر کیا تھا۔

      مستقبل کی پالیسیوں کے لیے مانیٹری پالیسی کا موقف:

      ایم پی سی کا پالیسی موقف بڑا اہم ہوگا۔ کیونکہ یہ آر بی آئی کے مستقبل کے پالیسی اقدامات کی نشاندہی کرے گی۔ مئی 2022 میں آف سائیکل پالیسی کے جائزے میں ایم پی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ اس پر نظر ثانی کی جائے گی۔ جب کہ جون 2022 پالیسی کے جائزے میں اس نے اس کے برعکس فیصلہ کیا۔ آر بی آئی کے موافق موقف کا مطلب آسان مانیٹری پالیسی ہے۔

      افراط زر کی پیشن گوئی

      یہ بھی پڑھیں:

      چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کے بعد اگلے CJI کون؟ جسٹس ادے امیش للت کی سفارش

      چونکہ ہندوستان میں افراط زر آر بی آئی کے 2 تا 6 فیصد کے ہدف سے آگے رہتا ہے، اس لیے مرکزی بینک آف انڈیا کی افراط زر پر تبصرہ کلیدی توجہ کا مرکز ہوگا۔ جون میں خوردہ مہنگائی قدرے کم ہو کر 7.01 فیصد ہو گئی، جو مئی میں ریکارڈ کی گئی 7.04 فیصد تھی۔ اپریل میں یہ 7.79 فیصد رہی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Covid-19: کورونا نے پھر بڑھائی تشویش، کیا آنے والی ہے نئی لہر؟ ماہرین نے کہی یہ بات

      جون میں پچھلے پالیسی بیان میں آر بی آئی نے موجودہ مالی سال 23-2022 کے لیے افراط زر کی پیشن گوئی کو 6.4 فیصد پر رکھا تھا، اس کے مقابلے میں پہلے کی پیش گوئی 5.7 فیصد تھی۔ ریٹنگ ایجنسی کرسیل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال 23 میں خوردہ افراط زر 6.8 فیصد رہے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: