ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بند کرنے کے فیصلہ پر ملک بھر میں ملا جلا ردعمل

مختلف مرکزی وزرا اور ریاستوں کے وزرائے اعلی نے کالےدھن اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اسے اٹھایا گیا جرات مندانہ قدم بتایا ہے مگر کئی لیڈروں نے اس کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 09, 2016 02:32 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بند کرنے کے فیصلہ پر ملک بھر میں ملا جلا ردعمل
مختلف مرکزی وزرا اور ریاستوں کے وزرائے اعلی نے کالےدھن اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اسے اٹھایا گیا جرات مندانہ قدم بتایا ہے مگر کئی لیڈروں نے اس کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔

نئی دہلی۔ ملک میں کالے دھن پر قدغن لگانے کی غرض سے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو بند کرنے کے وزیراعظم نریندرمودی کے اعلان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف مرکزی وزرا اور ریاستوں کے وزرائے اعلی نے کالےدھن اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اسے اٹھایا گیا جرات مندانہ قدم بتایا ہے مگر کئی لیڈروں نے اس کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ ترنمول کانگریس نے اسے سخت گیر قدم بتایا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اپنا ردعمل ظاہر کرنے میں احتیاط سےکام لیا ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایک ہزار کی جگہ دو ہزار کا نوٹ کیوں نکالاگیا ہے۔ اچانک سےبڑے نوٹ بند کرنے کے سرکار کے فیصلہ پر بھی اعتراض کیا ہے۔


پارٹی نے تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ کاروباریوں ، چھوٹے بیوپاریوں اور خواتین خانہ کے لئےبہت مسائل پیدا کرے گا۔ کانگریس کے مطابق پارٹی ہمیشہ کالے دھن کے معاملہ پر با معنی، واضح اور کارگر اقدام کی حمایت کرے گی لیکن یہ سوال بھی کیا کہ کیا مسٹر مودی غیر ممالک میں جمع 80 لاکھ کروڑ روپے کےکالے دھن کو ملک میں واپس لینے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے ہی یہ منصوبہ لائے ہیں۔


سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے مسٹر مودی کو جدید زمانہ کا تغلق بتایا ہے۔ ایک اور پارٹی لیڈر رندیپ سورجے والا نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ ہی کالے دھن کے خلاف اٹھائے گئے اقدام کی حمایت کی ہے۔ تاہم جس طر ح جلد بازی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے اس سے عام لوگوں کے لئے پریشانی پیدا ہوجائے گی، جو لوگ شادیوں کے لئے زیورات اور ملبوسات اور ضروری سامان خریدنا چاہتے ہیں ان کے لئے مسئلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہزار کا نوٹ واپس لے کر 2 ہزار کا نوٹ جاری کرنا بڑی عجیب بات ہے۔


مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر ستیا رام یچوری نے کہا کہ یہ منصوبہ ڈھنگ سے سوچ سمجھ کر تیار نہیں کیا گیا۔ اس سے ان کروڑوں لوگوں کو بے حد پریشانی ہوگی جو بینک کے ذریعہ لین دین نہیں کرتے بلکہ نقد پیسہ میں ہی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ مسٹر یچوری نے کہا ناجائز پیسہ لوگوں سے نکلوانے کے لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت بنکوں کا قرض ادا نہ کرنے والے چوٹی کے سونا دہندگان کے نام افشا کرے۔ ترنمول کی ممتابنرجی نے الزام لگایا کہ بنکوں میں 100 کے نوٹ دستیاب نہیں ہیں اور مطالبہ کیا کہ یہ سخت گیر فیصلہ فوراً واپس لیا جائے۔ مسز بنرجی نے اسے ’خوفناک فیصلہ‘‘ قرار دیا۔


کل رات وزیراعظم نریندر مودی نے اچانک یہ اعلان کرکے سب کو حیران کردیا کہ آدھی رات سے ایک ہزار اور 500 کے نوٹ غیرقانونی ہوجائیں گے۔ اس کا مقصد کالے دھن، جعلی کرنسی اور بدعنوانی پر وار کرنا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے مالیات ارجن رام میگھوال نے کہا کہ جعلی نوٹ اور کالے دھن کی دوہری لعنت سے نمٹنے کے لئے اٹھایا گیا یہ اب تک کا ’’سب سے بڑا قدم ‘‘ ہے۔ فکی کے صدر ہرش وردھن نیوٹیا نے کہا کہ یہ وزیراعظم کا انتہائی جرات مندانہ قدم ہے جس سے دہشت گردی کو ملنے والے پیسہ کی ترسیل کو دھکا پہنچے گا ۔ ہم اس کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے چند روز تک ملک کے لوگوں کو پریشانی اٹھانی پڑے گی تاہم ہمیں یقین ہے کہ حکومت اور ریزروبینک اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ یہ تبدیلی بخیر و خوبی عمل میں آئے۔ ریلوے کے وزیر سریش پربھو نے کہا کہ ریلوے اسٹیشنوں پر 11 نومبر 2016 کی آدھی رات تک ریلوے ٹکٹ کی خریداری کے لئے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ قبول کئے جائیں گے۔


مہاراشٹر کے وزیراعلی دیوندر فڈنویس نے مرکزی سرکار کے اس فیصلہ کو تاریخی اور جرات مندانہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام اس کا خیرمقدم کریں گے اور ملک کی ترقی میں یہ سنگ میل ثابت ہوگا۔ این ڈی اے اتحادی آندھرا پردیش کے وزیراعلی چندرا بابو نائیڈو نے بڑے نوٹ بند کرنے کے لئے وزیراعظم کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس سے ملک میں کالے دھن پر لگام لگانے میں مدد ملے گی۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اسے مسٹر مودی کا ماسٹر اسٹروک کہا ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بلاگ پر لکھا ہے کہ یہ بہت حوصلہ والا قدم ہے اس سے بدعنوانی اور دہشت گردی کے خلاف ہندستان کی لڑائی مستحکم ہوگی۔
وزیراعظم نریندر مودی کے سرکاری ٹوئیٹر ہینڈل پر کہا گیا ہے ’’چلئے ہم سب اس مہایگنہ ‘‘ بدعنوانی کے خلاف ہندستان کی لڑائی‘‘ میں شریک ہوجائیں۔

First published: Nov 09, 2016 11:22 AM IST