اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مولانا عبدالرحیم قریشی کے انتقال کو سرکردہ مسلم شخصیات نے عظیم سانحہ اور بڑا خسارہ قرار دیا

    نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری و ترجمان محمد عبدالرحیم قریشی صدر آل انڈیا مجلس تعمیر ملت حیدرآباد آج ہمارے درمیان نہیں رہے، ان کی جدائی کا غم کسی فرد واحد کے لئے یا مسلم پرسنل لا بورڈ ہی کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے ایک عظیم حادثہ اور بڑا خسارہ ہے۔ان خیالات کا اظہار مسلم پرسنل لا بورڈ کے مرکزی دفتر دہلی میں محمد عبدالرحیم قریشی کی وفات پر ایک تعزیتی میٹنگ میں کیاگیا۔

    نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری و ترجمان محمد عبدالرحیم قریشی صدر آل انڈیا مجلس تعمیر ملت حیدرآباد آج ہمارے درمیان نہیں رہے، ان کی جدائی کا غم کسی فرد واحد کے لئے یا مسلم پرسنل لا بورڈ ہی کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے ایک عظیم حادثہ اور بڑا خسارہ ہے۔ان خیالات کا اظہار مسلم پرسنل لا بورڈ کے مرکزی دفتر دہلی میں محمد عبدالرحیم قریشی کی وفات پر ایک تعزیتی میٹنگ میں کیاگیا۔

    نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری و ترجمان محمد عبدالرحیم قریشی صدر آل انڈیا مجلس تعمیر ملت حیدرآباد آج ہمارے درمیان نہیں رہے، ان کی جدائی کا غم کسی فرد واحد کے لئے یا مسلم پرسنل لا بورڈ ہی کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے ایک عظیم حادثہ اور بڑا خسارہ ہے۔ان خیالات کا اظہار مسلم پرسنل لا بورڈ کے مرکزی دفتر دہلی میں محمد عبدالرحیم قریشی کی وفات پر ایک تعزیتی میٹنگ میں کیاگیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری و ترجمان محمد عبدالرحیم قریشی صدر آل انڈیا مجلس تعمیر ملت حیدرآباد آج ہمارے درمیان نہیں رہے، ان کی جدائی کا غم کسی فرد واحد کے لئے یا مسلم پرسنل لا بورڈ ہی کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے ایک عظیم حادثہ اور بڑا خسارہ ہے۔ان خیالات کا اظہار مسلم پرسنل لا بورڈ کے مرکزی دفتر دہلی میں محمد عبدالرحیم قریشی کی وفات پر ایک تعزیتی میٹنگ میں کیاگیا۔


      میٹنگ بورڈ کے کارگزار جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں کارکنان دفتر بورڈ کی طرف سے مولانا محمد وقار الدین لطیفی صاحب نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ قریشی صاحب کی وفات کا حادثہ غیرمعمولی ہے، ملت کے عدالتی معاملات پر آپ کو بڑی مہارت حاصل تھی جو کم لوگوں کے اندر پائی جاتی ہے، چھوٹوں سے شفقت کا معاملہ بڑوں کی تعظیم اور قوم کی خاطر جہد مسلسل اور بے لوثی کے ساتھ ساتھ تحریرو تقریر کے ذریعہ رضائے الٰہی کی فکر آپ کا ممتاز پہلو تھا۔


      رکن مجلس عاملہ مولانا عتیق احمد بستوی صاحب نے کہا کہ ہمارے محترم قریشی صاحبؒ مسلم پرسنل لا بورڈ کے قانونی ماہرین کے نہ صرف قائد تھے بلکہ عدالتی معاملوں میں دن رات محنت کرتے، مطالعہ کرتے اور پھر جواب تیار کرتے، میں نے دارالقضا کے مقدمات کی تیاری اور پیروی کے موقع پر دیکھا اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مواقع پر ان کے انداز کار اور محنت سے بہت متأثر ہوا۔ وہ ایک نیک دل انسان تھے۔


      رکن عاملہ بورڈ کمال فاروقی صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمی پوری ملت کو بڑی شدت سے محسوس ہوگی۔ ان کی بڑی خدمات ہیں اور یہ ملت کا بڑا خسارہ ہے، ہم سب مغموم ہیں وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے دست و بازو کی حیثیت رکھتے تھے اللہ اس قوم پر رحم کرے اور ان کا بدل عطا فرمائے۔


      صدارتی خطاب میں حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے فرمایا کہ جناب محمد عبدالرحیم قریشی صاحب کسی ایک انسان کا نام نہیں تھا ان کا درد اور ان کی تڑپ پوری ملت کے لئے وقف تھا۔ قریشی صاحب اپنی جوانی کے دور میں سید خلیل اللہ حسینی صاحبؒ کی تحریک سے متاثر ہوئے اور ملی خدمات میں ایسے لگے کہ قریباً پچاس برسوں تک اس قوم کی خدمت اور بہتری کے لئے اپنا ایک ایک قطرہ خون سوکھا دیا اور اپنی جوان ہڈیوں کو گھلا دیا۔


      ان کی صلاحیتوں کو والد صاحب(حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی صاحب بانی بورڈ) نے تاڑلیا اور وہ بورڈ کے لئے ایک مضبوط ستون ثابت ہوئے۔ قریشی صاحب سید خلیل اللہ حسینی صاحب کے جذبۂ ایثار کی بھٹی میں تپے اور مولانا منت اللہ رحمانیؒ کی تربیت میں ایسے پروان چڑھے کہ وہ پوری قوم کے لئے گوہر نایاب ثابت ہوئے اور ملت کے لئے عظیم سرمایہ ثابت ہوئے۔


      آپ کی خدمات کی بڑی طویل فہرست ہے آپ کا جذبہ بڑا مبارک تھا، قانونی و عدالتی اور جمہوری معاملات میں بورڈ کی کامیابیوں میں بنیادی رول آپ کا ہوا کرتا تھا۔ بورڈ کی خدمات کے ہر حرف کے ساتھ آپ کا نام جڑا ہے۔اس تعزیتی اجلاس میں قاضی محمد کامل قاسمی ، مولانا محمد احتشام رحمانی، خالد صابر قاسمی صاحب،مولانا ارشد عالم ندوی صاحب، مولانا ممتاز عالم صاحب اور شمشیر صاحب وغیرہ شریک ہوئے۔

      First published: