உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ریاستی وزیر Raghuraj Singh کے مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ کہنے پر مذہبی رہنما مولانا سفیان نظامی کا ردعمل، کہہ ڈالی بڑی بات

    Youtube Video

    رگھو راج کے اس بیان پر مولانا سفیان نظامی نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقے کے بیانات سوچی سمجھی سازش کے تحت دئے جاتے ہیں اور جن لوگوں عوام کی بنیادی مسائل اور فلاح و بہبود کیلئے منتخب کیا جاتا ہے اور جب وہ ان سب میں ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ اس طریقے کے بیانات دیکر مذہبی تفریق کو بڑھاوا دیکر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    • Share this:
      ریاستی وزیر رگھو راج سنگھ نے مدارس کو لیکر متنازعہ بیان دیا ہے۔ انہوں مدرسوں کو دہشت گردوں کا اڈہ بتا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان مجھے موقع دے تو میں تمام مدارس کو بند کر دوں گا کیونکہ مدارس میں دہشت گردی کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ وہیں اسی پر مذہبی سیاسی رہنما و علما بھی اس پر رد عمل دے رہے ہیں۔ رگھو راج کے اس بیان پر مولانا سفیان نظامی نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقے کے بیانات سوچی سمجھی سازش کے تحت دئے جاتے ہیں اور جن لوگوں عوام کی بنیادی مسائل اور فلاح و بہبود کیلئے منتخب کیا جاتا ہے اور جب وہ ان سب میں ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ اس طریقے کے بیانات دیکر مذہبی تفریق کو بڑھاوا دیکر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مولانا سفیان نے آگے کہا، کہ یہ بیان جو حالیہ یعنی وقتی طور پر دیا گیا ہے یہ ان کی اپنی حالت پر مبنی بیان ہے۔

      انہوں نے کہا، مدرسوں کے سلسلے میں پچھلی حکومت میں رہے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کہتے ہیں کہ مدرسوں کا کوئی بھی کنکشک دہشت گردی ایکٹوٹی میں نہیں ہے۔ اس طرح کی اور بھی مثالیں ہیں جو مدارس کے اندر جو پروگرام ہوتے ہیں ان کی ویڈیو گرافی کرائی جاتی ہیں۔ مدرسوں کی اپنی ایک الگ تاریخ رہی ہے مدرسوں کی قربانی رہی ہے۔ ملک کی آزادی کیلئے جتنی قربانیاں مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں نے دی ہیں شایدہ ہی اس کی کوئی مثال ہو۔

      تو یہ تمام تر جو بیانات دئے جا رہے ہیں یہ اپنی ان کی نا اہلی کا ثبوت ہے کہ وہ بالکل نا اہل ہو چکے ہیں عوامی مسائل کو حل کرنے میں تو لگتا ہے کہ 2022 کے انتخابات کے پیش نظر اس طرح کے بیان دئے جا رہے ہیں۔ اور یہ ایک ان کی حکمت عملی ہوتی ہے کہ بڑے پیمانے پر الیکشن کو مذہب کی بنیاد پر لڑنا ہے تو کمیونٹی میں فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کیلئے اس طرح کے بیان دئے جاتے ہیں۔ تاکہ اس طرح کے بیانوں سے مذہبی بنیاد سے تفریق پھیلائی جائے اور اس کا انہیں الیکشن میں فائدہ مل سکے۔

      مولانا سفیان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے کمیونٹی کو ٹھیس پہنچتی ہے ایسے بیانوں کو لیکر اقدامات اٹھانے چاہئے اور ان پر کارروائی کرنی چاہئے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: