உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کاس گنج پولیس حراست میں ہوئی تھی الطاف کی پر اسرار موت، گھروالوں نے پولیس پر قتل کا لگایا ہے الزام

     انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیم پی یو سی ایل کی طرف سے داخل عرضی میں پولیس حراست کے دوران الطاف کی پراسرار موت پر کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے ہیں ۔

    انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیم پی یو سی ایل کی طرف سے داخل عرضی میں پولیس حراست کے دوران الطاف کی پراسرار موت پر کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے ہیں ۔

    انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیم پی یو سی ایل کی طرف سے داخل عرضی میں پولیس حراست کے دوران الطاف کی پراسرار موت پر کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے ہیں ۔

    • Share this:
    الہ آباد: یو پی کے کاس گنج میں الطاف نام کے نوجوان کی پولیس حراست میں ہونے والی پر اسرار موت کو لیکر الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک نئی عرضی داخل کی گئی ہے ۔ عرضی میں الطاف کی لاش کا دو بارہ پوسٹ مارٹم کرانے کی درخواست کی گئی ہے ۔ انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیم پی یو سی ایل کی طرف سے داخل عرضی میں پولیس حراست کے دوران الطاف کی پراسرار موت پر کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے ہیں ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ کاس گنج پولیس نے الطاف کی موت کو خودکشی بتایا ہے ۔جبکہ الطاف کے گھروالوں نے پولیس پر الطاف کو قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ لہٰذا سچائی سامنے لانے کے لیے الطاف کی لاش کا پھر سے پوسٹ مارٹم کرایا جائے ۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پی یو سی ایل کی طرف سے الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی ۔ اس عرضی میں الطاف کی موت کی جانچ سی بی آئی سے کرانے اور پولیس حراست میں ہونے والی اموات کے معاملے فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلانے کی درخواست کی گئی ہے ۔ پی یو سی ایل کے ریاستی صدر اور الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ سید فرمان احمد نقوی کا کہنا ہے کہ الطاف کی موت کی پوری ذمہ داری کاس گنج پولیس پرعائد ہوتی ہے ۔

    فرمان احمد نقوی کا کہنا ہے کہ جب تک اس معاملے کی آزادانہ طریقے جانچ نہیں ہوگی ، سچائی سامنے نہیں آ پائے گی ۔ گذشتہ ۹ نومبر کو یو پی کے کاس گنج پولیس تھانے میں ۲۲ ، سالہ الطاف کی پر اسرار حالت میں موت ہو گئی تھی ۔ کاس گنج پولیس نے الطاف کی موت کی وجہ خود کشی بتائی تھی ۔لیکن الطاف کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے الطاف کی موت پر کئی طرح کے سوال اٹھائے ہیں ۔ اس سلسلے میں الطاف کے والد چاند میاں کی طرف سے پولیس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے ۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: