ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

متعدد سینئر کانگریسی لیڈروں کو پرشانت کشور کی مداخلت نہیں آرہی ہے پسند ، ہائی کمان سے کی شکایت

نئی دہلی : کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے اترپردیش اور پنجاب میں پارٹی کی کھوئی ہوئی زمین کی واپسی کے لئے انتخابی مہم کے چانکیہ کہے جانے والے پرشانت کشور کو ہائر کیا ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: May 17, 2016 03:41 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
متعدد سینئر کانگریسی لیڈروں کو پرشانت کشور کی مداخلت نہیں آرہی ہے پسند ، ہائی کمان سے کی شکایت
نئی دہلی : کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے اترپردیش اور پنجاب میں پارٹی کی کھوئی ہوئی زمین کی واپسی کے لئے انتخابی مہم کے چانکیہ کہے جانے والے پرشانت کشور کو ہائر کیا ہے۔

نئی دہلی : کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے اترپردیش اور پنجاب میں پارٹی کی کھوئی ہوئی زمین کی واپسی کے لئے انتخابی مہم کے چانکیہ کہے جانے والے پرشانت کشور کو ہائر کیا ہے۔ مگر اپنے گزشتہ دو اسائنمنٹس میں کامیاب رہے پرشانت کشور کو اس مرتبہ کافی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا۔

اگر ذرائع کی مانیں تو متعدد کانگریسیوں کو پرشانت کشور کی دخل اندازی پسند نہیں آ رہی ہے اور اس کی شکایت ہائی کمان سے بھی کی گئی ہے، جس کے بعد پرشانت کو ہدایت دی گئی ہے کہ آپ کو پارٹی کے لئے انتخابی مہم کی حکمت عملی تیاری کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، نہ کہ ٹکٹ کی تقسیم کو لے کر فیصلہ کرنے کی۔

قابل ذکر ہے کہ جب پرشانت کشور کو کانگریس نے انتخابی مہم کے لئے منتخب کیا ، تو انہوں نے راہل گاندھی سے فری ہینڈ دینے کی بات کہی تھی۔ اب پی کے کا خیال ہے کہ انہیں ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی فری ہینڈ دیا جائے، جس پر سینئر کانگریسی لیڈروں کو کافی اعتراض ہے۔ علاوہ ازیں پرشانت کشور نے یوپی انتخابات میں پانچ نکاتی منصوبہ بنایا ہے ، جس پر کانگریس میں اتفاق رائے نہیں ہوپارہا ہے اور تو اور کچھ نے تو اپنا اعتراض بھی درج کرایا ہے۔

پرشانت نے پارٹی کو مشورہ دیا تھا کہ پارٹی کا وزیر اعلی کا چہرہ برہمن ہو۔ ان کے مطابق اس طرح کانگریس 13 فیصد برہمن ووٹ کو اپنے حق میں کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے راجپوت اور مسلم ووٹ بینک کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ پرشانت کا دعوی ہے کہ دلت کسی بھی صورت میں مایاوتی کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، اس لئے راہل گاندھی اور کانگریس کو اس کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے۔ اتنا ہی نہیں پی کے نے تجویز دی ہے کہ پرینکا اور راہل کا اترپردیش انتخابات میں سرگرم رول ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں امیدواروں کے انتخاب کے لئے 250 کارکنوں کو اپنے ساتھ لانے کی قابلیت کی ذمہ داری متعدد کانگریسیوں کو ہضم نہیں ہورہی ہے اور وہ اس کی مخالفت کرنے لگے ہیں ۔

تاہم پرشانت کشور کو گاندھی کنبہ کی پوری حمایت حاصل ہے ، لیکن پیر کو بالواسطہ طور پر پی کے کو اس بابت ایک پیغام دیا گیا۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ آپ کو صرف کانگریس کی انتخابی مہم کی حکمت عملی کا ذمہ دیا گیا ہے ، نہ کہ تنظیم کے امور اور ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر فیصلہ کرنے کا۔

لیکن ذرائع کے مطابق پرشانت کشور ویسا ہی فری ہینڈ چاہتے ہیں ، جیسا کہ نتیش کمار نے انہیں بہار انتخابات میں دیا تھا۔ ادھر پی کے کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا انتظار نہیں کریں گے ، انہیں نکالا جائے ، بلکہ وہ جلد ہی کانگریس کا دامن چھوڑسکتے ہیں ۔ پی کے کا خیال ہے کہ کانگریس یوپی انتخابات جیت سکتی ہے ، بشرطیکہ پارٹی ان تجاویز پر عمل کرے۔
First published: May 17, 2016 03:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading