உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجیہ سبھا کی کارروائی میں ایک دن کی توسیع سے اپوزیشن ناراض، ایوان میں ہنگامہ

    وہیں بل کے وقت پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیاں بدھ کو سوال اٹھا سکتی ہیں

    وہیں بل کے وقت پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیاں بدھ کو سوال اٹھا سکتی ہیں

    لوک سبھا میں تقریبا تمام جماعتوں نے اس کے حق میں ووٹ کیا لیکن راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیاں اس پر سخت رخ اپنا سکتی ہیں۔

    • Share this:
      عام زمرہ کے اقتصادی طور پر کمزور لوگوں کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کے التزام والے تاریخی آئینی ترمیمی بل کو منگل کو 3 کے مقابلے 323 ووٹوں سے لوک سبھا کی منظوری مل گئی۔ اب بدھ کو اس کے راجیہ سبھا میں پیش ہونے کا امکان ہے جہاں ایوان کے اجلاس میں ایک دن اور بڑھا دیا گیا ہے۔

      راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ہی ٹی ایم سی کے ارکان پارلیمنٹ نے مخالفت کرنا شروع کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی نوٹس کے راجیہ سبھا کی کارروائی میں کیسے توسیع کی جا سکتی ہے۔ وہیں، کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آنند شرما نے بھی اس توسیع پر سوال اٹھایا۔

      انہوں نے راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے اپوزیشن سے چرچا کئے بغیر راجیہ سبھا کی کارروائی میں توسیع کی گئی وہ صحیح نہیں ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ ایسے میں اگر ایوان صحیح ڈھنگ سے نہیں چلتا ہے تو اس کے لئے حکومت ہی ذمہ دار ہو گی۔

      وہیں بل کے وقت پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیاں بدھ کو سوال اٹھا سکتی ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے تمام ارکان سے بدھ کو راجیہ سبھا میں موجود رہنے کے لئے کہا ہے۔ حکومت راجیہ سبھا میں اکثریت میں نہیں ہے۔ لوک سبھا میں تقریبا تمام جماعتوں نے اس کے حق میں ووٹ کیا لیکن راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیاں اس پر سخت رخ اپنا سکتی ہیں۔
      First published: