ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنئو: خواتین محسوس کریں ذمہ داریاں، ڈاکٹروں اور پولس اہلکاروں کا کریں احترام: تحریکِ نسواں

تحریک نسواں کی ریاستی صدر طاہرہ حسن نے کہا ہے کہ جب برقع پوش خواتین پر لاٹھیاں برساتی ہوئی پولس کے مناظر سامنے آتے ہیں تو شرمندگی ہوتی ہے۔

  • Share this:
لکھنئو: خواتین محسوس کریں ذمہ داریاں، ڈاکٹروں اور پولس اہلکاروں کا کریں احترام: تحریکِ نسواں
تحریک نسواں کی ریاستی صدر طاہرہ حسن

لکھنئو۔ خواتین پر مشتمل لکھنئو کی معروف تنظیم تحریک نسواں نے عورتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی خانگی، سماجی اور مذہبی ذمہ داریاں سمجھتے ہوئے خود بھی گھروں میں رہیں اور اپنے گھر کے مردوں اور بچوں کو بھی گھروں سے باہر نہ جانے دیں۔ تحریک نسواں کی ریاستی صدر طاہرہ حسن نے کہا ہے کہ جب برقع پوش خواتین پر لاٹھیاں برساتی ہوئی پولس کے مناظر سامنے آتے ہیں تو شرمندگی ہوتی ہے۔ خواتین کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ خود بھی رسوائی سے بچیں اور قوم و ملت کو بھی شرمندہ نہ کرائیں۔


طاہرہ یہ بھی کہتی ہیں کہ کچھ خواتین ایسی بھی ہوتی ہیں جنکا کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ ایسے موقع پر سماج کے دوسرے لوگوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ مجبور و لاچار لوگوں کی ہر طرح مدد کریں انہیں بھوکا بھی نہ سونے دیں اور عدم تحفظ کے احساس میں بھی مبتلا نہ ہو نے دیں۔ اتر پردیش کے کچھ علاقوں سے یہ شکایتیں بھی سامنے آئی ہیں کہ لوگ پولس اور ڈاکٹروں سمیت ان لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کررہے ہیں جو سماج و عوام کے تحفظ کے لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈالے ہوئے ہیں۔ لوگ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سماجی و عوامی خدمت میں لگے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو۔


طاہرہ حسن نے مرادآباد میں پولس پر کئے گیے پتھراو کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان مذموم حرکتوں سے اپنا اور اپنے سماج کا ایسا نقصان کررہے ہیں جس کی تلافی ممکن نہیں۔


طاہرہ حسن نے مرادآباد میں پولس پر کئے گیے پتھراو کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان مذموم حرکتوں سے اپنا اور اپنے سماج کا ایسا نقصان کررہے ہیں جس کی تلافی ممکن نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کچھ مقامات سے پولس کے ذریعے بیجا مظالم کرنے اور مذہبی منافرت کو فروغ دینے والی تصویریں بھی سامنے آئی ہیں۔ لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ وقت مذہب کے نام پر لڑنے اور نفرت کرنے کا نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کو مل کر  وبا کے خاتمے کے لئے حکومت کے احکامات کو ماننے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا ہے۔ طاہرہ نے یہ بھی کہا کہ یہ ہماری اور ہمارے ملک کی بد نصیبی ہے کہ اس عبرت ناک دور میں بھی لوگ ہندو مسلم کررہے ہیں اور ان غریب سبزی فروشوں اور پریشان حال لوگوں پر بھی تعصب کی لاٹھیاں برسا رہے ہیں جو ہندو ہیں نہ مسلمان ہیں بس بھوک سے بدحال و پریشان ہیں۔
First published: Apr 16, 2020 06:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading