உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں میڈیا اہلکاروں کی نقل وحرکت پر غیراعلانیہ پابندی ، کرفیو پاسز کی بھی نہیں کوئی وقعت

    میڈیا اہلکاروں کو سری نگر کی سڑکوں پر کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کی غرض سے تعینات سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس اہلکاروں کی جانب سے نہ صرف بدسلوکی بلکہ بعض اوقات دھمکیوں اور تشدد سے بھی گذرنا پڑتا ہے۔

    میڈیا اہلکاروں کو سری نگر کی سڑکوں پر کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کی غرض سے تعینات سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس اہلکاروں کی جانب سے نہ صرف بدسلوکی بلکہ بعض اوقات دھمکیوں اور تشدد سے بھی گذرنا پڑتا ہے۔

    میڈیا اہلکاروں کو سری نگر کی سڑکوں پر کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کی غرض سے تعینات سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس اہلکاروں کی جانب سے نہ صرف بدسلوکی بلکہ بعض اوقات دھمکیوں اور تشدد سے بھی گذرنا پڑتا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر : کشمیر انتظامیہ نے کرفیو زدہ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں میڈیا اہلکاروں کی نقل وحرکت پر غیراعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انہیں سری نگر کی سڑکوں پر کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کی غرض سے تعینات سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس اہلکاروں کی جانب سے نہ صرف بدسلوکی بلکہ بعض اوقات دھمکیوں اور تشدد سے بھی گذرنا پڑتا ہے۔ شہر میں کرفیو کے نفاذ کے لئے کھڑی کی گئی رکاوٹوں پر تعینات سیکورٹی فورس اہلکار ضلع مجسٹریٹ سری نگر کی طرف سے میڈیا اہلکاروں کو جاری کردہ کرفیو پاسز کو نا منظور کررہے ہیں اور انہیں ’جہاں سے آئے ہیں وہاں واپس چلے جانے‘ کے لئے کہہ رہے ہیں۔
      ستم ظریفی یہ ہے کہ میڈیا اہلکاروں کو نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی سے روک دیا جاتا ہے، بلکہ سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے بدسلوکی اور دھمکیوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ یو این آئی کے فوٹو جرنلسٹ ایس فیاض کو گذشتہ شام ایک پولیس اہلکار نے اُس وقت پیلٹ گن کی گولیوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی جب وہ اپنی معمول کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد ڈاون ٹاون کے صفا کدل میں واقع اپنے گھر جارہے تھے۔
      ایس فیاض نے بتایا کہ جب میں صفاکدل میں اپنے گھر کے نذدیک پہنچا تو وہاں میں نے ایک کونے میں ریاستی پولیس کے کچھ اہلکاروں کو دیکھا جو نوجوانوں کی گرفتاری کے لئے گھات لگاکر بیٹھے تھے۔ ایک پولیس اہلکار نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے سامنے احتجاج کررہے نوجوانوں کو ہمارے بارے میں بتایا تو ہم تم پر پیلٹ گن سے فائرنگ کریں گے ۔
      ایس فیاض نے سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس اہلکاروں کے میڈیا اہلکاروں کے تئیں رویے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بمشکل ہی اپنے گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر پہنچ پاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’مجھے17 اور 18 اگست کو اُس وقت اپنے ایک رشتہ دار کے گھر میں ٹھہرنا پڑا تھا جب سیکورٹی فورسز نے مجھے اپنے گھر جانے نہیں دیا‘۔
      فیاض نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ نے میڈیا اہلکاروں کی نقل وحرکت پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ میڈیا اہلکاروں کے لئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے سری نگر کی سڑکوں پر گذشتہ ہفتے تعینات کئے گئے سشستراسیما بل (ایس ایس بی) کے اہلکاروں نے گزشتہ رات وادی سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ ’گریٹر کشمیر‘ اور اردو روزنامہ ’کشمیر عظمیٰ‘ کے چند صحافیوں کو اپنی بندوقوں سے ڈرایادھمکایا جب وہ تاریخی لال چوک میں واقع اپنے دفتر میں کام ختم کرنے کے بعد اپنے گھروں کی طرف جارہے تھے۔
      گریٹر کشمیر نے اپنی ایک آن لائن رپورٹ میں کہا ’گریٹر کشمیر کے سینئر نامہ نگار عابد بشیر، کشمیر عظمیٰ کے سینئر نامہ نگار بلال فرقانی اور عملے کے ایک رکن شفقت احمد کو ٹی آر سی کراسنگ کے نذدیک ایس ایس بی اہلکاروں نے روکا‘۔ اخبار نے اپنے نامہ نگاروں کے حوالے سے کہا ’انہوں نے ہم پر چللایا اور ہمیں واپس جانے کے لئے کہا۔ ہم نے اُن سے کہا کہ ہم صحافی ہیں اور اپنے کرفیو پاسز دکھائے، لیکن وہ زیادہ اشتعال میں آگئے اور کرفیو پاسز کو ماننے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی بندوقوں کے دھانے ہماری طرف کردیے‘۔
      صحافیوں نے کہا کہ جب انہوں نے ایک سینئر پولیس افسر کے ساتھ بات کی تو اُس کے بعد ہی انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ریاستی پولیس اہلکاروں نے 17 اگست کی شام کو ایک انگریزی روزنامہ کے لئے کام کرنے والی ایک خاتون صحافی کو مبینہ طور پر اُس وقت زدوکوب کیا جب وہ اپنے دفتر میں رپورٹیں فائل کرنے کے بعد گھر روانہ ہونے کے دوران جواہر نگر میں سبزیاں خریدنے کے لئے رک گئی تھی۔
      پولیس اہلکاروں نے نہ صرف مذکورہ خاتون صحافی کو زدوکوب کیا تھا بلکہ اُن کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔ اتوار کو میڈیا اہلکاروں کے ایک گروپ بشمول یو این آئی کے عملے کو ایکسچینج روڑ پر تعینات سیکورٹی فورسز نے اپنے دفتر کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی۔ اخبار فروشوں کے ایک گروپ نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں گزشتہ چند دنوں کے دوران ڈاون ٹاون اور شہرخاص میں اخبارات کی کاپیاں تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ بیشتر صحافی اب شام کے وقت کسی خطرے کو ٹالنے کے لئے سری نگر میں اپنے دفاتر یا اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں عارضی طور پر رہ رہے ہیں۔
      ظہور حسین نامی ایک صحافی نے بتایا کہ 9 جولائی سے موبائیل انٹرنیٹ خدمات کی مسلسل معطلی کے باعث میڈیا اہلکاروں کو اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا ’موبائیل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے باعث ہم اپنے دفاتر جہاں براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات کی سہولیت دستیاب ہے، وہاں ٹھہرنے پر مجبور ہیں‘۔ انہوں نے مزید بتایا ’میرے لئے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے سری نگر کے سیول لائنز میں واقع اپنے دفتر پہنچنا ممکن نہ تھا، اب میں گزشتہ کچھ ماہ سے یہاں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر میں عارضی طور پر قیام پذیر ہوں‘۔
      وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی ’آزادی حامی‘ احتجاجی لہر کے دوران تاحال 66 عام شہری ہلاک جبکہ 5 ہزار دیگر زخمی ہوگئے ۔ احتجاجی لہر کے دوران دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ قریب 3 ہزار سی آر پی ایف و پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔
      First published: