உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رکشہ چلانے والےکومحکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے 3کروڑسےزائد اداکرنےکی نوٹس، پولس سے ہوا رجوع

    سنگھ کی شکایت کی بنیاد پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا لیکن پولیس معاملے کو دیکھے گی

    سنگھ کی شکایت کی بنیاد پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا لیکن پولیس معاملے کو دیکھے گی

    امر کالونی کے رہنے والے پرتاپ سنگھ Pratap Singh نے محکمہ آئی ٹی کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد ہائی وے پولیس اسٹیشن میں دھوکہ دہی کا دعویٰ کرتے ہوئے شکایت درج کرائی۔

    • Share this:
      اتر پردیش کے متھرا Mathura ضلع میں اتوار کو ایک رکشہ چلانے والے نے پولیس سے رابطہ کیا جب اسے محکمہ انکم ٹیکس (آئی ٹی) کی طرف سے 3 کروڑ روپیے سے زائد رقم کو ادا کرنے کے لیے کو کہا گیا۔ متھرا میں باکالپور علاقے کی امر کالونی کے رہنے والے پرتاپ سنگھ Pratap Singh نے محکمہ آئی ٹی IT department کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد ہائی وے پولیس اسٹیشن میں دھوکہ دہی کا دعویٰ کرتے ہوئے شکایت درج کرائی۔

      اسٹیشن ہاؤس آفس (ایس ایچ او) انوج کمار نے کہا کہ سنگھ کی شکایت کی بنیاد پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا لیکن پولیس معاملے کو دیکھے گی۔ دریں اثنا سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ اپ لوڈ کیا جس میں انہوں نے واقعات کی ترتیب بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ 15 مارچ کو انہوں نے بکالپور کے جن سویدھا مرکز میں تیج پرکاش اپادھیائے کی ملکیت میں ایک پین کارڈ کے لیے درخواست دی، کیونکہ ان کے بینک نے اسے جمع کرانے کے لیے کہا تھا۔

      ۔(علامتی تصویر : Shutterstock)۔
      ۔(علامتی تصویر : Shutterstock)۔


      رکشہ والے نے کلپ میں کہا کہ اس کے بعد اسے بکل پور کے ایک سنجائی سنگھ (موبائل نمبر 9897762706) سے پین کارڈ کی رنگین فوٹو کاپی ملی۔ چونکہ وہ ناخواندہ ہ ہے وہ اصل پین کارڈ اور اس کی رنگین فوٹو کاپی میں فرق نہیں کر سکتا تھا۔

      اسے اپنا پین کارڈ حاصل کرنے کے لیے تقریباً تین ماہ تک ایک دوسرے دفتر تک بھاگنا پڑا۔ سنگھ نے کہا کہ انہیں 19 اکتوبر کو آئی ٹی حکام کی طرف سے ایک کال موصول ہوئی اور انہیں 3,47,54,896 روپے ادا کرنے کو کہا گیا۔

      انہوں نے کہا کہ حکام نے انہیں بتایا کہ کسی نے ان کی نقالی کی ہے اور کاروبار چلانے کے لیے ان کے نام پر جی ایس ٹی نمبر حاصل کیا ہے اور 2018تا 2019 کے دوران وہ شخص 43,44,36,201 روپیے کا مالک تھا۔ سنگھ نے کہا کہ انہیں آئی ٹی حکام نے ایف آئی آر درج کرانے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ کسی نے ان کی نقالی کرتے ہوئے دھوکہ دہی کا ارتکاب کیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: