ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نماز پڑھنا ہمارا حق، زمین پرقبضے کا خدشہ بے بنیاد، وزیراعلیٰ کھٹر کے بیان پراقلیتی طبقے میں ناراضگی

گڑگاوں میں نماز تنازعہ پر ہریانہ کے وزیراعلیی منوہر لال کھٹر کے بیان سے اقلیتی طبقے میں ناراضگی ہے۔ نماز ادا کرنے سے روکنے والے 6 نوجوانوں پر کیس درج کروانے والے واجد خان نہرو یوا تنظیم کے صدر شہزاد نے وزیراعلیٰ کے بیان کو بدقسمتی بتایا ہے۔

  • Share this:
نماز پڑھنا ہمارا حق، زمین پرقبضے کا خدشہ بے بنیاد، وزیراعلیٰ کھٹر کے بیان پراقلیتی طبقے میں ناراضگی
گڑگاوں میں نماز تنازعہ پر ہریانہ کے وزیراعلیی منوہر لال کھٹر کے بیان سے اقلیتی طبقے میں ناراضگی ہے۔ نماز ادا کرنے سے روکنے والے 6 نوجوانوں پر کیس درج کروانے والے واجد خان نہرو یوا تنظیم کے صدر شہزاد نے وزیراعلیٰ کے بیان کو بدقسمتی بتایا ہے۔

گروگرام: گڑگاوں میں نماز تنازعہ پر ہریانہ کے وزیراعلیی منوہر لال کھٹر کے بیان سے اقلیتی طبقے میں ناراضگی ہے۔ نماز ادا کرنے سے روکنے والے 6 نوجوانوں پر کیس درج کروانے والے واجد خان نہرو یوا تنظیم کے صدر شہزاد نے وزیراعلیٰ کے بیان کو بدقسمتی بتایا ہے۔


شہزاد نے کہا "ہم نے آج تک کہیں کسی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ نے صرف ایک مخصوص مذہب کے لوگوں کو خوش کرنے والا بیان دیا ہے۔ جب تک ہمیں مسجد کے لئے جگہ نہیں مل جاتی ہے تب تک ہمیں مذہبی آزادی ہے کہ ہم سرکاری خالی زمین پر نماز پڑھ لیں"۔


اقلیتوں کی ناراضگی بتاتی ہے کہ وزیراعلیٰ کا بیان ہندو شدت پسند تنظیموں کی لائن کو مضبوط کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ یہ معاملہ ابھی تو تھمنے والا نہیں ہے۔ کھٹر نے کہا ہے کہ مسجدوں، عیدگاہوں اور پرائیویٹ مقامات پر ہی نماز ادا کی جانی چاہئے۔ حکومت یقینی بنائے گی کہ قانون انتظام بہتر رہے۔ گروگرام میں کئی مقامات پر نماز ادا کرنے کے دوران جنوب دائیں بازو کی تنظیموں کی طرف سے رکاوٹ پہنچانے کے حادثات کے بعد ان کا یہ تبصرہ اہم ہے۔


گزشتہ دو ہفتہ میں وزیر آباد، اتل کٹاریہ چوک، سائبر پارک، بختاور چوک اور جنوبی شہری علاقوں میں نماز میں "رخنہ اندازی" کی گئی۔ اس میں مبینہ طور پر سے وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، ہندو کرانتی دل، گورکشک دل اور شیو سینا کے رکن شامل تھے۔ اب ان تنظیموں کی ایک جدوجہد کمیٹی بن گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سیاسی سازش کے خدشات کو خارج نہیں کیاجاسکتا کیونکہ الیکشن قریب ہے۔

گروگرام میں شروع ہوئے نماز تنازعہ آج کا نہیں ہے۔ کچھ سال قبل تک یہاں عید کی نماز دہلی جے پور ہائی وے پر پڑھی جاتی تھی۔ ہائی وے کا ٹریفک منتقل کردیا جاتا ہے۔ یہ بات یہاں کے بی جے پی لیڈروں کو کھٹک رہی تھی۔ اگست 2013 میں کانگریس سرکار کے دوران بی جے پی ضلع صدر کل بھوشن بھاردواج نے مقامی عدالت میں عرضی داخل کرکے کہا تھا کہ ہرسال دونوں عید کے موقع پر نماز کے دوران نیشنل ہائی وے -8 پرٹریفک جام ہوجاتا ہے۔

بھاردواج بتاتے ہیں کہ 2014 میں عدالت نے کہا تھا کہ ہائی وے پر ہر حال میں ٹریفک نہیں ہونا چاہئے، اس کے بعد انتظامیہ عارضی طور پر نماز کے لئے دیوی لال اسٹیڈیم دیا تھا۔ عید کی نماز کا مسئلہ تو متبادل جگہ سے حل ہوگیا، لیکن ہر جمعہ پر نماز خالی پڑی سرکاری زمین پر ہوتی رہی۔ گروگرام میں الگ الگ ریاستوں سے کام کاج کے لئے آنے والے مسلمانوں کے لئے تعداد کے مطابق مسجدیں نہیں بنیں، اس لئے انہوں نے اس کے لئے خالی جگہ کا استعمال شروع کردیا۔

کہیں ووٹ کےلئے پولرائزیشن کی کوشش تو نہیں؟ 

جب کئی سال سے سرکاری زمین پر نماز ہوتی آئی ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ اچانک سبھی ہندو وادی تنظیمیں ان خالی جگہوں پر نماز کے خلاف کیوں کھڑے ہوگئے۔ کیا آنے والے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے لئے پولرائزیشن کی کوئی کوشش کی؟

جواب میں سیّنکت ہندو سنگھرش سمیتی کے سربراہ مہاویر بھاردواج بتاتے ہیں کہ کسی مقصد سے ایسا نہیں کیا گیا۔ وزیرآباد گاوں میں مندر کے سامنے خالی سرکاری پلاٹ میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے یہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، تو گاوں والوں نے کہا کہ اچانک مندر کے سامنے کیسے نماز پڑھی جانے لگی۔ وہاں سے اٹھی مخالفت پورے گڑگاوں میں پھیل گیا، اس میں کچھ بنگلہ دیشی اور روہنگیا مسلم بھی ہونے کا خدشہ ہے، اس لئے ان کی جانچ ہونی چاہئے۔ حالانکہ پولیس نے گروگرام میں بنگلہ دیشی یا روہنگیا مسلم ہونے سے انکار کیاہے۔

جب ہڈا (ہریانہ ڈیولیمپنٹ اتھارٹی) نے مذہبی سائٹ بنارکھی ہیں تو کھلے میں کیوں نماز ہو؟ اسی مخالفت کی وجہ سے 6 لڑکوں پر کیس درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا جبکہ وہ تو سرکاری زمین کو قبضے سے بچا رہے تھے۔

مسلمانوں کی نظر میں یہ ہے مسائل کی جڑ

دوہزار گیارہ کی مذہبی مردم شماری کے مطابق گروگرام کی کل آبادی 1،514،432 ہے۔ اس کا 4.68 فیصدی مسلم ہیں۔ واجد خان نہرو یوا سنگٹھن، گروگرام کے صدر شہزاد کہتے ہیں کہ اس شہر میں عارضی طور پر 80-70 ہزار مسلم رہتے ہیں۔ اس شہر کی مسلسل توسیع ہورہی ہے۔ یہاں روزگار کی تلاش میں لوگ آرہے ہیں۔ فیکٹریاں اور  تعمیری سائٹوں  پر کام کرنے والے عارضی طور پر تقریباً 6-5 لاکھ مسلم ہیں، ان کے نماز پڑھنے کے لئے کہیں کوئی جگہ نہیں ہے۔

صرف 9 مسجدیں، 8 پرانے گرو گرام میں

شہزاد کھلے میں نماز پڑھنے کی وجہ بتاتے ہیں، "اتنی بڑی آبادی پر گروگرام میں صرف 9 مسجدیں ہیں، اس میں سے 8 تو پرانے گرو گرام ہیں، صرف ایک نئے میں جبکہ سب سے زیادہ مسلم نئے گروگرام میں آئے ہیں۔ ہڈا نے ہرسیکٹر میں مذہبی سائٹ بنارکھی ہیں، لیکن اس میں ہمیں مسجد کے لئے جگہ نہیں ملتی جبکہ مندروں، گرودواروں اور گرجا گھروں کے لئے پلاٹ مل جاتا ہے۔ سرکار ہمیں مسجد کے لئے پلاٹ دے اور وقف بورڈ کی قبضہ پڑی زمین کو خالی کروائے"۔

اوم پرکاش کی رپورٹ

 
First published: May 07, 2018 05:37 PM IST