உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حکومت فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کیلئے پرعزم: پارلیمنٹ میں کرن رجیجو کی یقین دہانی

    نئی دہلی۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت نے کہاکہ ملک کے ماحول کو کسی بھی حالت میں خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    نئی دہلی۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت نے کہاکہ ملک کے ماحول کو کسی بھی حالت میں خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    نئی دہلی۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت نے کہاکہ ملک کے ماحول کو کسی بھی حالت میں خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت نے کہاکہ ملک کے ماحول کو کسی بھی حالت میں خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
      وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے تپن کمار سین کی توجہ دلاؤ تحریک ’مویشیوں کے تاجروں پر تشدد کے واقعات‘ پر راجیہ سبھا میں ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ حکومت آئین سے بندھی ہوئی ہے اور ہرحال میں آئین کی پیروی کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ دادری معاملے پر حکومت نے سخت سے سخت صلاح جاری کی تھی اور ریاستی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے والے عناصر سے ہر قیمت پر نمٹا جائے گا۔ انہوں نے اعداد و شمار کے حوالے سے کہاکہ نریندر مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2015 میں مویشیوں کی تجارت سے متعلق 13 واقعات کے نتیجے میں فسادات ہوئے جبکہ 2016 میں صرف آٹھ واقعات کے نتیجے میں فسادات ہوئے۔


      مسٹر رجیجو نے کہاکہ 2015 میں گائے اور گائے کے گوشت کی تجارت سے متعلق معاملے اترپردیش، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، راجستھان، کرناٹک، آندھرا پردیش، دہلی، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور پنجاب میں درج کئے گئے تھے جبکہ 2016 میں دہلی، گجرات، ہریانہ، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، اڈیشہ اور اترپردیش میں گائے اور گائے کے گوشت کی تجارت سے متعلق واقعات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قانون و انتظام برقرار رکھنے کی ذمہ داری خاص طور پر ریاستی حکومتوں کی ہے اور مرکزی حکومت اس پرہرممکن طریقے سے عمل کرتی ہے۔ ریاستی حکومت کے مطالبہ پر مرکزی پولیس فورس فراہم کرائے جاتے ہیں۔ توجہ دلاؤ تحریک پر دیئے گئے بیان پر ایک تبصرہ کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہاکہ یہ ہندستانی حکومت کی دستاویز ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہئے۔


      لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ تجارت پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔ اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ درحقیقت انسانیت ختم ہو رہی ہے۔ قبل ازیں توجہ دلاؤ تحریک پیش کرتے ہوئے سی پی ایم کے تپن کمار سین نے کہاکہ ملک میں عدم رواداری میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کو فرقہ کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ ملک کی ترقی، اتحاد اور سالمیت کے لئے مناسب نہیں ہے۔ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے اور حکومت اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے لیڈر ڈی راجا نے کہاکہ گائے اور گائے کے گوشت کی آڑ میں ایک فرقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئین پر عمل درآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کیلئے سماج کی ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے۔ جنتا دل متحدہ کے غلام رسول بلیاوی نے کہاکہ مذہب کی آڑ میں تشدد کرنے والوں کے خلاف حکومت کو سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ ایسے واقعات سے دشمنوں کو مضبوطی ملتی ہے اور ملک کمزور ہوتا ہے۔

      First published: