உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نئی دہلی: بھیانک سڑک حادثے میں ائیرہوسٹس کی موت، تنہا پڑا خاندان

    ایئر انڈیا میں ائیرہوسٹس شانکبری جتشی کا کل سڑک حادثے میں انتقال ہو گیا۔

    ایئر انڈیا میں ائیرہوسٹس شانکبری جتشی کا کل سڑک حادثے میں انتقال ہو گیا۔

    ایئر انڈیا میں ائیرہوسٹس شانکبری جتشی کا کل سڑک حادثے میں انتقال ہو گیا۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ دہلی میں ایک بار پھر سڑک حادثے نے ایک خاندان کو اجاڑ دیا۔ ایئر انڈیا میں ائیرہوسٹس شانکبری جتشی کا کل سڑک حادثے میں انتقال ہو گیا۔ وہ اپنے گھر سے آفس جا رہی تھیں، جہاں سے انہیں فلائٹ پکڑنی تھی۔ لیکن وہ آفس پہنچ پاتیں اس سے پہلے ہی ٹرک سے ٹکرا کر ان کی کار چکنا چور ہو گئی۔ شانکبری کے شوہر کو بلڈ کینسر ہے اور ان کا ایک 8 سال کا بیٹا بھی ہے۔ لیکن شانکبری کے اس طرح سڑک حادثے میں ہلاک ہو جانے سے اب ان کا خاندان مکمل طور پر ٹوٹ گیا ہے۔

      دراصل، ہر بار کی طرح جمعہ کو بھی شانکبری اپنی ڈیوٹی نبھانے کے لئے صبح صبح ہی تیار ہو کر گھر سے آفس کے کیب میں نکلیں۔ گڑگاؤں سے نکلی شانکبری کی کیب دہلی کے راجوكری فلائی اوور پر حادثے کا شکار ہو گئی۔ سڑک پر چلتے ایک ٹرک نے اتنی زور سے بریک مارا کہ پہلے شانکبری کی کیب کے آگے چل رہی انووا ٹرک سے ٹکرائی اور پھر انووا سے شانکبری کی آفس کیب۔ ٹکر اتنی خوفناک تھی کہ شانکبری بری طرح زخمی ہو گئیں اور آخر کار علاج کے دوران انہوں نے دم توڑ دیا۔

      چھتیس سال کی شانکبری اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرنے والی اکلوتی شخص تھیں۔ ان کے شوہر بلڈ کینسر میں مبتلا ہیں اور ان کا علاج گڑگاؤں کے ایک اسپتال میں چل رہا ہے۔ شوہر کے علاج کے لئے اسپتال آسانی سے آ جا سکیں اس کے لیے فرید آباد چھوڑ کر پورا خاندان گڑگاؤں میں ایک فلیٹ میں رہنے لگا۔ شانکبری کا ایک 8 سال کا بیٹا بھی ہے۔

      شانکبری ایئر ہوسٹس تھیں ایسے میں انہیں کبھی بھی شہر سے باہر، گھر سے دور آنا جانا پڑتا تھا، لیکن خاندان کی ذمہ داریوں کو بھی نبھانا ضروری تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ مختصر فاصلے کی فلائٹس پر ہی جایا کرتی تھیں تاکہ وہ اپنے بیمار شوہر اور چھوٹے بچے کی پوری دیکھ بھال کر سکیں۔

      Car2

      حادثے کے بعد ٹرک ڈرائیور فرار ہو گیا۔ پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ لیکن شانکبری کے خاندان کی مانیں تو ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد ان کے جسم سے کافی خون بہہ رہا تھا، لیکن ان تک مدد دیر سے پہنچی اور اگر وقت رہتے شانکبری کو علاج مل جاتا تو شاید ان کی جان بچ جاتی۔
      First published: