உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    علی گڑھ میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی حکومت ہند سے بس یہ ہے فریاد

    علی گڑھ کے ایک مدرسہ میں روہنگیا بچے: فوٹو نیوز 18

    علی گڑھ کے ایک مدرسہ میں روہنگیا بچے: فوٹو نیوز 18

    علی گڑھ میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی تعداد حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔

    • Share this:

      ملک میں پناہ گزیں روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ ایک بار پھر سے سرخیوں میں ہے۔ پارلیمنٹ سے لیکر راجیہ سبھا تک اس پر بحث کا دور جاری ہے۔ ایسے میں سرکاری ایجنسیاں بھی سرگرم ہوگئی ہیں۔ علی گڑھ میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی تعداد حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ جہاں روہنگیا مسلمان خود اپنی تعداد 310 سے 315 اور 72 خاندان بتاتے ہیں اور ان کے پاس یونائٹیڈ نیشن ہائی کمیشن فار ریفیوجی کے شناختی کارڈ بھی ہیں جو انھیں خود اقوام متحدہ نے جاری کئے ہیں، وہیں پولیس کے پاس 63 خاندانوں کا ڈاٹا ہے جس میں وہ 245 افراد ہیں۔ روہنگیا مسلمان ہندوستان میں خود کو محفوظ تصور کررہے ہیں اسی لئے یہاں رکے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ مستقل یہاں رہنا نہیں چاہتے۔ ان کی خواہش ہے کہ ہندوستانی حکومت انکے ملک پر دباؤ بنائے اور انھیں واپس بھجوائے لیکن تب تک یہاں  انھیں تعلیم اور صحت کے تعلق سے سہولیات فراہم کی جائیں۔ فی الحال وہ بچوں کو دینی تعلیم فراہم کرا رہے ہیں اور ایک مدرسہ بھی قائم کر رکھا ہے۔


      جان و مال اور آبرو کے تحفظ کے ساتھ آزادی کی سانس لینا دنیا میں پیدا ہونے والے ہر شخص کا بنیادی حق ہے لیکن جب اسی حقوق کی پامالی ہونے لگے گی تو پھر وہاں سے ہجرت کا ہی راستہ رہ جائے گا۔ یہ کہنا ہے روہنگیا مسلمانوں کی علی گڑھ میں رہبری کررہے مولانا بلال کا جو خود بھی روہنگیا سے ہجرت کرکے یہاں آکر بسے ہیں۔ وہ ملک تو جانا چاہتے ہیں لیکن بنیادی حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی پر۔ فی الحال وہ اور ان کے جیسے سینکڑوں لوگ محنت مزدوری  کرکے اپنی زندگی بسر کررہے ہیں اور سکون کی سانس لینے کے لئے حالات سازگار ہونے تک یہی رہنا چاہتے ہیں۔


      نیوز 18 اردو سے خصوصی ملاقات میں مولانا بلال کہتے ہیں کہ دنیا میں جنتے بھی انسان ہیں وہ سبھی آزادی چاہتے ہیں لیکن برما میں آزادی بالکل نہیں ہے۔ آزادی کا مطلب ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں جانا اور ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ تک جانے کے لئے بھی اجازت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں جان ومال اور عزت محفوظ نہ ہو وہاں کیسے رہا جاسکتا ہے اور یہ مظالم زیادہ تر مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ وہاں داڑھی رکھنے پر بھی پابندی ہے۔ مولانا بلال بتاتے ہیں کہ 2012 میں وہ ہندوستان آئے اور پھر علی گڑھ یہاں آکر انھیں لگتا ہے کہ دنیا میں یہ جگہ ان کے لئے جنت ہے۔ ہندوستانی حکومت ہو یا عوام سبھی نے انھیں بہت سہارا دیا ہے ۔ مزدوری کرکے زندگی کی گذر بسر کررہے ہیں ۔




       روہنگیا مسلمانوں کی علی گڑھ میں رہبری کررہے مولانا بلال
      روہنگیا مسلمانوں کی علی گڑھ میں رہبری کررہے مولانا بلال

      مولانا بلا ل ہندوستانی حکومت سے درخواست کررہے ہیں کہ جب تک انکے ملک میں حالات سازگار نہ ہوجائیں انھیں یہیں رہنے کی اجازت دی جائے۔ وہیں وہ تعلیم کی اہمیت سے بھی واقف ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے بچوں کو تعلیمی مراعات فراہم کرائے۔ وہیں وہ چاہتے ہیں کہ صحت کے تعلق سے انھیں سہولیات ملیں کیونکہ اس تنگی کے دور میں وہ دو وقت کی روٹی نہیں جٹا پاتے ہیں تو علاج کیسے کرائیں گے۔ انکی خواہش ہے کہ سرکاری اسپتال میں ان کا علاج ہوسکے۔


      مولانا بلال نے حکومت ہند سے ایک اور مطالبہ کیا ہے کہ جیسے پوری دنیا ان کے ملک برما پر دباؤ بنا رہی ہے وہ بھی دباؤ بنائے کہ وہ لوگ انھیں وطن واپس لے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح امریکہ ،ترکی ،بنگلہ دیش ،ملیشیا جیسے ممالک مدد کرررہے ہیں اسی طرح ہندوستان بھی  ان کے ساتھ مل کر دباؤ بنائے اور وہاں کے حالات کو سازگار بنا کر ہمیں وہاں پہنچا دیں۔ بس شرط یہی ہے کہ وہاں ہماری جان ، مال ،ایمان اور عزت کا تحفظ ہوسکے ۔


      محمد کامران کی رپورٹ

      First published: