ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

روہتک گینگ ریپ کیس میں نیا موڑ، لڑکی اور ملزم دونوں کے دعوے نکلے سچے

اس دن اس ہوٹل میں پرمود نام کا لڑکا ایک لڑکی کو لے کر آیا تھا ۔ دونوں ایک کمرے میں کئی گھنٹے تک ساتھ رہے ۔ فی الحال پولیس نے یہ انکشاف تو نہیں کیا کہ وہ لڑکی کون تھی ، لیکن روہتک کی اس طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ میں پولیس نے پرمود نام کے اس شخص کو بھی ملزم قرار دیا ہے ۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Jul 24, 2016 10:11 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
روہتک گینگ ریپ کیس میں نیا موڑ، لڑکی اور ملزم دونوں کے دعوے نکلے سچے
اس دن اس ہوٹل میں پرمود نام کا لڑکا ایک لڑکی کو لے کر آیا تھا ۔ دونوں ایک کمرے میں کئی گھنٹے تک ساتھ رہے ۔ فی الحال پولیس نے یہ انکشاف تو نہیں کیا کہ وہ لڑکی کون تھی ، لیکن روہتک کی اس طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ میں پولیس نے پرمود نام کے اس شخص کو بھی ملزم قرار دیا ہے ۔

نئی دہلی : کچھ دنوں پہلے ہریانہ کے روہتک میں ایک طالبہ نے پانچ نوجوانوں پر گینگ ریپ کا الزام لگایا تھا ۔ یہ تمام لوگ پہلے بھی اسی سکول کے ساتھ گینگ ریپ کے الزام میں جیل کی ہوا کھا چکے تھے ۔ طالبہ کے الزام پر سیاسی اور سماجی دباؤ کی وجہ سے پولیس نے تین ملزموں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ۔ لیکن اس معاملے میں اب ایک نیا انکشاف ہوا ہے جو انتہائی حیرت انگیز ہے ۔ پولیس کا دعوی ہے کہ گینگ ریپ کا الزام لگانے والی طالبہ بھی درست ہے اور ملزمان کی بے گناہی بھی صحیح ہے ۔


گینگ ریپ کی تفتیش میں مصروف ایس آئی ٹی ہر پہلو اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے ۔ جب متاثرہ لڑکی نے گینگ ریپ کا الزام لگایا ، تو ملزموں نے کچھ سی سی ٹی وی فوٹیج اور کال کی تفصیلات کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی تھی ۔ جانچ میں مصروف پولیس کو بھی ملزموں کے ثبوتوں میں کچھ دم نظر آیا تھا ، اس لئے پولیس جلدبازی میں گرفتاری سے بچتی رہی ، لیکن چوطرفہ سیاسی اور سماجی دباؤ بنا ، تو پولیس نے تین ملزموں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ۔ ملزم جیل چلے گئے ، لیکن جانچ ٹیم پورے معاملے میں ثبوتوں کی تلاش میں مصروف رہی ۔ اسی تلاش میں پولیس کی جانچ ایک ہوٹل تک جا پہنچی ۔ اس ہوٹل کے رجسٹر اور سی سی ٹی وی فوٹیج نے معاملے کو نیا موڑ دے دیا ۔


اس دن اس ہوٹل میں پرمود نام کا لڑکا ایک لڑکی کو لے کر آیا تھا ۔ دونوں ایک کمرے میں کئی گھنٹے تک ساتھ رہے ۔ فی الحال پولیس نے یہ انکشاف تو نہیں کیا کہ وہ لڑکی کون تھی ، لیکن روہتک کی اس طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ میں پولیس نے پرمود نام کے اس شخص کو بھی ملزم قرار دیا ہے ۔


پولیس کا دعوی ہے کہ پرمود نام کا وہ شخص لڑکی کے رابطہ میں تھا ۔ ایسے میں اس خدشہ سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے لڑکی اپنی مرضی سے ہوٹل میں آئی ہو ۔ معاملے کی جانچ جاری ہے ۔ وہیں اس معاملے میں نیا موڑ آ جانے کے بعد گرفتار ملزموں کے وکیل اب تینوں نوجوانوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی وہ جھوٹے الزام لگانے کے معاملے میں طالبہ کے خلاف ہتک عزت اور مجرمانہ دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرانے کا دعوی کر دیا ہے ۔
First published: Jul 24, 2016 10:11 PM IST