உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یو جی سی کا نیا سرکلر واپس لینے کا مطالبہ،ایچ آر ڈی وزیر کو لکھا خط

    یو جی سی کے نئے کوٹہ کے اصولوں کو لیکر سماجی جسٹس منسٹر تھور چند گہلوت نے ای آر ڈی وزیر پرکاش جاوڈیکر کو ایک خط لکھا ہے۔گہلوت نے خط میں یو جی سی کے نئے کوٹہ اصولوں کو شیڈول شدہ ذات ،شیڈول شدہ قبائلوں ،دیگر پسماندہ طبقات کےخلاف بتاتے ہوئے اسے واپس لینے کی گزارش کی ہے۔

    یو جی سی کے نئے کوٹہ کے اصولوں کو لیکر سماجی جسٹس منسٹر تھور چند گہلوت نے ای آر ڈی وزیر پرکاش جاوڈیکر کو ایک خط لکھا ہے۔گہلوت نے خط میں یو جی سی کے نئے کوٹہ اصولوں کو شیڈول شدہ ذات ،شیڈول شدہ قبائلوں ،دیگر پسماندہ طبقات کےخلاف بتاتے ہوئے اسے واپس لینے کی گزارش کی ہے۔

    یو جی سی کے نئے کوٹہ کے اصولوں کو لیکر سماجی جسٹس منسٹر تھور چند گہلوت نے ای آر ڈی وزیر پرکاش جاوڈیکر کو ایک خط لکھا ہے۔گہلوت نے خط میں یو جی سی کے نئے کوٹہ اصولوں کو شیڈول شدہ ذات ،شیڈول شدہ قبائلوں ،دیگر پسماندہ طبقات کےخلاف بتاتے ہوئے اسے واپس لینے کی گزارش کی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔یو جی سی کے نئے کوٹہ کے اصولوں کو لیکر سماجی جسٹس منسٹر تھور چند گہلوت نے ایچ آر ڈی وزیر پرکاش جاوڈیکر کو ایک خط لکھا ہے۔گہلوت نے خط میں یو جی سی کے نئے کوٹہ اصولوں کو شیڈول شدہ ذات ،شیڈول شدہ قبائلوں ،دیگر پسماندہ طبقات کےخلاف بتاتے ہوئے اسے واپس لینے کی گزارش کی ہے۔ای آرڈی کے نام لکھے گئے خط میں گہلوت نے کہا کہ تعلیم کے شعبوں میں حاشیہ پر رہ رہے طبقات کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانا حکومت کا کام ہے۔یو جی سی کا نیا کوٹہ سرکلر آئینی احکامات کے خلاف ہے۔ایسے میں حکومت کو یہ سرکلر واپس لینا چاہئے۔
      یو جی سی نے یہ سرکلر 5مارچ کو جاری کیا تھا۔سرکلر کے مطابق ایس سی ،ایس ٹی اور او بی سی کو ٹے کی بھرتیاں دپارٹمینٹ کے تحت ہوں گی،نہ کہ یونیورٹی کے تحت۔

      گہلوت کے مطابق نئی اطلاع آئینی احکامات کے مطابق شیڈیول شدہ ذات ،شیڈول شدہ قبائلوں ،دیگر پسماندہ طبقات،زمرے کے لحاظ سے 15 فیصد،7.5 فیصد اور 27 فیصد نوکریاں حاصل کرنے کا اصول ہے۔

      تھور چند گہلوت کا کہنا ہیکہ روسٹر میں ڈپارٹمنٹ کو نہیں بلکہ یونیورسٹی کو ایک یونٹ کے طور پر پر لیا جانا چاہئے،تاکہ سبھی طبقے کے لوگوں کو تعلیم کے شعبوں اور اساتذ ہ کے عہدوں پر ایک ہی جیسا موقع ملے۔تبھی اس کے بعد سماجی انصاف کا تصور یقینی بنایا جائے گا۔
      First published: