اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ٹرین میں سر عام عوامی راستہ میں نماز پڑھنے کی ویڈیو وائرل، یو پی پولیس نے کہاتفتیش جاری ہے

    اس وقت ٹرین کھڈا ریلوے اسٹیشن پر رکی تھی۔

    اس وقت ٹرین کھڈا ریلوے اسٹیشن پر رکی تھی۔

    گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) کے ایس پی اودھیش سنگھ نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تحقیق کررہے ہیں کہ کیا مسافروں کو سفر کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا؟ اس پر مزید تحقیقات کی جائے گی اور پھر اس معاملے پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow | Mumbai | Jammu | Hyderabad | Karnawad
    • Share this:
      ہفتہ کو اتر پردیش کے کشی نگر میں کھڈا ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک ٹرین کے اندر چار افراد کو نماز پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ایک ویڈیو وائرل ہوا۔ مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک بار پھر نماز کی ادائیگی پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ریلوے پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کردی ہے اور کہا ہے کہ تحقیقات کے بعد کارروائی کی جائے گی۔

      ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ چار افراد سلیپر کوچ کے عوامی راستہ میں نماز پڑھ رہے ہیں، اسے اتر پردیش کے سابق ایم ایل اے دیپلال بھارتی نے شیئر کیا جو ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ دوسرے مسافروں کو تکلیف پہنچا رہے تھے۔ یہ واقعہ جمعرات 20 اکتوبر کو ستیہ گرہ ایکسپریس (15273) میں پیش آیا، جب ٹرین کشی نگر کے کھڈا ریلوے اسٹیشن پر رکی تھی۔

      سی پی آر او این ای آر نے کہا کہ ریلوے پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، حالانکہ ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی تحریری شکایت درج کرائی گئی۔ ٹرین کوریڈور میں نماز پڑھنے کے بارے میں وائرل ویڈیو کی معلومات لی گئی ہے۔ ویڈیو کی سچائی اور اس دعوے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اسے 20 اکتوبر کو شوٹ کیا گیا تھا، جب ٹرین کھڈا ریلوے اسٹیشن پر رکی تھی۔ ریلوے پولیس کو معاملے کی تحقیقات کرنے کو کہا گیا ہے۔

      گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) کے ایس پی اودھیش سنگھ نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تحقیق کررہے ہیں کہ کیا مسافروں کو سفر کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا؟ اس پر مزید تحقیقات کی جائے گی اور پھر اس معاملے پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمیں اس معاملے سے متعلق تحریری شکایت موصول ہوئی تو فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: