உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آر ایس ایس لیڈروں نے مودی حکومت کی تعلیمی پالیسی کا ڈرافٹ کیا مسترد

    مودی حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کے ڈرافٹ کو آر ایس ایس کے لیڈروں نے مسترد کر دیا ہے اور اپنی طرف سے کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔

    مودی حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کے ڈرافٹ کو آر ایس ایس کے لیڈروں نے مسترد کر دیا ہے اور اپنی طرف سے کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔

    مودی حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کے ڈرافٹ کو آر ایس ایس کے لیڈروں نے مسترد کر دیا ہے اور اپنی طرف سے کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : مودی حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کے ڈرافٹ کو آر ایس ایس کے لیڈروں نے مسترد کر دیا ہے اور اپنی طرف سے کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔ نئی تعلیمی پالیسی پر تجاویز پیش کرنے کے لئے جمعرات کو آر ایس ایس کے لیڈروں نے انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر پرکاش جاوڈیکر سے ملاقات کی۔ ان لیڈروں نے جاوڈیکر کو تحریری طور پر تجاویز پیش کئے ۔ لیڈروں میں خاص طور پر اتل کوٹھاری شامل تھے۔
      تعلیمی پالیسی کے ڈرافٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے آر ایس ایس لیڈروں نے کہا کہ 'یہ واضح نہیں ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی کس طرح پرانی تعلیم پالیسیوں سے الگ ہے اور ملک کو ایک تعلیم کے شعبہ میں ایک ٹھوس سمت فراہم کرتی ہے۔ آر ایس ایس لیڈروں نے کہا کہ وزارت تعلیم سے اس سلسلے میں وقتا فوقتا مشورہ دینے کے لئے ایک اعلی سطحی مستقل تعلیمی آیوگ کی بات کہی گئی ہے۔
      آر ایس ایس لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی بحران کا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے تمام سطح پر ہندوستانی سوچ سے مطابقت رکھنے والا کورس ہونا چاہئے۔ ڈرافٹ میں اس کو بحث میں شامل کیا گیا ہے، لیکن اس کو پالیسی میں داخل کیا جائے۔
      ووکیشنل ایجوکیشن کو سب کے لئے ضروری کرنے پر ایس ایس لیڈروں نے مخالفت کی ۔ لیڈروں کا خیال ہے کہ پڑھائی میں کمزور طلبہ کے لئے ووکیشنل ایجوکیشن کی بات ٹھیک ہے، لیکن تمام طلبہ کے لئے یہ آپشنل ہو۔
      آر ایس ایس لیڈروں کا خیال ہے کہ 5 ویں تک سرکاری اور پرائیویٹ دونوں اسکولوں میں مادری زبان کا میڈیم ضروری ہو۔ دیگر زبان کے طور پر ہندی اور سنسکرت کا آپشن دیا جانا چاہئے اور تیسری زبان کے طور پر آٹھویں شیڈول کی دیگر زبانوں اور انگریزی کا آپشن دیا جا سکتا ہے۔ سنسکرت کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں۔
      آر ایس ایس لیڈروں نے بی ایڈ اور ایم ایڈ کو 2 سال کا کورس کئے جانے پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نےکہا کہ بی ایڈ کے دو سال کے کورس سے تعلیم کے معیار میں بہتری آئے گی ، ایسا تصور کر لیا گیا ہے اور اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔ بی ایڈ اور ایم ایڈ کے 2 سال کے کورس پر پھر سے غور کیا جانا چاہئے۔
      First published: