ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پاکستان کے تئیں ’ پہلے دہشت گردی پر بات‘ کی اپنی پالیسی پر قائم رہے حکومت: آر ایس ایس

نئی دہلی۔ سکریٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کو پٹری پر لانے کی ہندوستان اور پاکستان کی کوششوں کے درمیان آر ایس ایس نے مودی حکومت کو پاکستان کے تئیں’پہلے دہشت گردی پر بات‘ کی اپنی پالیسی پر قائم رہنے کی نصیحت کی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 17, 2016 05:14 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پاکستان کے تئیں ’ پہلے دہشت گردی پر بات‘ کی اپنی پالیسی پر قائم رہے حکومت: آر ایس ایس
آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت: فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ سکریٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کو پٹری پر لانے کی ہندوستان اور پاکستان کی کوششوں کے درمیان آر ایس ایس نے مودی حکومت کو پاکستان کے تئیں’پہلے دہشت گردی پر بات‘ کی اپنی پالیسی پر قائم رہنے کی نصیحت کی ہے۔ آرایس ایس کے ترجمان آرگنائزر کے تازہ شمارے میں شائع اداریہ میں کہا گیا ہے کہ پٹھان کوٹ حملے کے بارے میں ہندوستان کی طرف سے فراہم کرائی گئی معلومات کی بنیاد پر پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ درست ہے کہ پاکستان میں کچھ دہشت گرد عناصر اپنے طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے میں لگے رہتے ہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ عناصر ہندوستان کے تئیں پاکستان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔


اداریہ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان 2007 میں لال مسجد کیس میں چین کے کہنے پر کارروائی کر سکتا ہے یا امریکہ کو ایبٹ آباد میں اسامہ کے قتل کے لئے کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسے ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے بھی کچھ کارروائی کرنی چاہئے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے محاذ پر کوئی کارروائی کرنی ہوگی تبھی اس کی اس بات پر غور کیا جا سکتا ہے کہ وہ بھی دہشت گردی کا دکھ جھیل رہا ہے۔ داریہ میں کہا گیا ہے کہ یہ عناصر کسی ملک کی سر حد میں رہتے ہوئے وہاں بالواسطہ یا براہ راست حمایت کی بنیاد پر ہی اپنی سرگرمیاں چلاتے ہیں تو یہ وہاں کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ ان عناصر کو شکست دینا چاہتی ہے یا نہیں۔ پاکستان کی کارروائی میں یہ بات جھلكني چاہئے کہ دہشت گردی اس کے لئے بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے۔ اس کے بغیر کوئی مجموعی بات چیت نہیں ہو سکتی ہے۔


آر ایس ایس نے ملک میں موجودہ حکومت کو یہ بھی یاد دلایا ہے کہ پچھلی حکومتوں کے وقت سے ہی یہ پالیسی رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانا اس بات پر منحصر ہے کہ وہ دہشت گردی کے محاذ پر کیا کارروائی کرتا ہے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت میں کوئی بھی پارٹی رہی ہو لیکن ہندوستان کا مسلسل یہی رخ رہاہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ ایک قوم پرست حکومت سے لوگوں کو سلامتی کے محاذ پر جو توقع ہے اسے بھی سمجھا جانا چاہئے۔ یہ اداریہ ایسے وقت پر لکھا گیا ہے جب ہندوستان اور پاکستان پٹھان کوٹ دہشت گرد انہ حملوں کی وجہ سے پٹری سے اتری خارجہ سطح کی بات چیت کی تاریخ دوبارہ طے کرنے کے لئےمتفق ہیں۔ اس حملے کے بعد ہندوستان نے پاکستان سے کہا تھا کہ یہ مذاکرات تبھی ممکن ہوں گے  جب پاکستان ہندوستان کی طرف سے اس حملے کے بارے میں اس کےدستیاب کرائے گئے ثبوتوں پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔

First published: Jan 17, 2016 05:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading