ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہشت گرد کو ڈھیر کر دینے والی رخسانہ کو اب اپنے ہی 'گھر' میں اپنی جان کا خطرہ

سرینگر۔ ایک ایسی لڑکی جس نے گھر میں زبردستی گھس آئے لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیم کے اعلیٰ کمانڈر کو کلہاڑی سے کاٹ ڈالا تھا، آج وہ اپنی ہی جان کو لے کر فکرمند ہے۔

  • IBN7
  • Last Updated: Feb 18, 2016 01:13 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
دہشت گرد کو ڈھیر کر دینے والی رخسانہ کو اب اپنے ہی 'گھر' میں اپنی جان کا خطرہ
سرینگر۔ ایک ایسی لڑکی جس نے گھر میں زبردستی گھس آئے لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیم کے اعلیٰ کمانڈر کو کلہاڑی سے کاٹ ڈالا تھا، آج وہ اپنی ہی جان کو لے کر فکرمند ہے۔

سرینگر۔ ایک ایسی لڑکی جس نے گھر میں زبردستی گھس آئے لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیم کے اعلیٰ کمانڈر کو کلہاڑی سے کاٹ ڈالا تھا، آج وہ اپنی ہی جان کو لے کر فکرمند ہے۔ صدر جمہوریہ سے بہادری کا اعزاز حاصل کرنے والی راجوری کی بہادر رخسانہ کوثر کو اپنے ہی شوہر سے اب جان کا خطرہ ہے۔ رخسانہ نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دہشت گرد میری جان کے پیچھے پڑے ہیں تو دوسری طرف میرا شوہر جسے میں اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتی تھی، وہ بھی میری جان کا دشمن بنا ہوا ہے اور میری جان لینا چاہتا ہے۔ کبھی دہشت گردوں کے چھکے چھڑانے والی رخسانہ اب سیکورٹی کا مطالبہ کر رہی ہے۔


آپ کو بتا دیں کہ لشکر کے دہشت گرد کا خاتمہ کرنے والی رخسانہ کی حفاظت کے لئے 10 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے لیکن اب ایک بھی پولیس اہلکاراس کے ساتھ نہیں ہے۔ رخسانہ کو انہی 10 پولیس اہلکار میں سے ایک جس کا نام کبیر تھا، اس سے محبت ہو گئی اور دونوں نے 26 مئی 2010 کو عدالت میں شادی کر لی۔ اب رخسانہ کوثر کا کہنا ہے کہ کبیر ہی اس کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔


راجوری ضلع میں لشکر کے خود ساختہ كمانڈر ابو اسامہ کو رخسانہ نے 29 ستمبر 2009 کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ آج اسی رخسانہ کا کہنا ہے کہ میرا شوہر مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دے رہا ہے اور میرے پیسے بھی خرچ کر چکا ہے۔ رخسانہ اس وقت پولیس میں کانسٹیبل کے عہدے پر تعینات ہے اور اس کا شوہر بھی پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ہے۔ دونوں نے اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں میں کشیدگی چل رہی ہے۔

First published: Feb 18, 2016 01:12 PM IST