உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتراکھنڈ کے معاملہ پر راجیہ سبھا میں کانگریس کا زبردست ہنگامہ ، پہلے دن نہیں ہوسکا کوئی اہم کام

    نئی دہلی: اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کئے جانے کے معاملے پر آج کانگریس نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان میں کوئی اہم کام کاج نہیں ہوسکا

    نئی دہلی: اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کئے جانے کے معاملے پر آج کانگریس نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان میں کوئی اہم کام کاج نہیں ہوسکا

    نئی دہلی: اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کئے جانے کے معاملے پر آج کانگریس نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان میں کوئی اہم کام کاج نہیں ہوسکا

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کئے جانے کے معاملے پر آج کانگریس نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان میں کوئی اہم کام کاج نہیں ہوسکا اور کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ لوک سبھا میں بھی کانگریس کے اراکین نے اجلاس شروع ہونے کے فوراً بعد یہ معاملہ اٹھایا اور اس سلسلے میں تحریک التوا منظور کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اپنے مطالبے پر زور دینے کے لئے ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے اور پارٹی کے دیگر اراکین کچھ دیر ایوان میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔
      وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں مسٹر کھڑگے کے ان الزامات کو غلط قرار دیا کہ مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس کی حکومتوں کو گرانے کی سازش کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش میں جو صورتحال پیدا ہوئی ، وہ کانگریس کے داخلی بحران کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کئے جانے کے معاملے پر حکومت ضابطوں کے مطابق بحث کرانے کو تیار ہے ۔
      راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی چار سابق ممبران پارلیمنٹ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور نومنتخب اراکین کو رکنیت کا حلف دے دیا گیا۔ اس کے بعد کانگریس کے اراکین نے اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے کا معاملہ اٹھایا اور اس پر بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کرنے لگے۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وقفہ صفر نہیں ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔
      کارروائی ملتوی ہونے کے بعد وقفہ سوال شروع ہونے پربھی کانگریس کے اراکین نعرے بازی کرنے لگے اور اتراکھنڈ کے معاملے پر بحث کرانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ ایوان کے چیئرمین ڈاکٹر حامد انصاری نے اراکین کو خاموش رہنے اور وقفہ سوال چلنے دینے کی اپیل کی ، لیکن اراکین کے خاموش نہ ہونے پر انہوںنے دوسری بار کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔
      لنچ کے وقفے کے بعد کارروائی شروع ہونے پر بھی کانگریس کے اراکین ہنگامہ کرتے ہوئے، جس کی وجہ سے کارروائی سہ پہر تین بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ پھر تیسری بار جب کارروائی شروع ہوئی ، تو کانگریس کے اراکین ایوان کے بیچوں بیچ آگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔اراکین جمہوریت کا قتل بند کرو،مودی کی تاناشاہی نہیں چلے گی اورمودی تیری تاناشاہی نہیں چلے گی، نہیں چلے گی کے نعرے لگاتے رہے۔
      اسی دوران وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختار نقوی نے اراکین سے درج فہرست ذاتوں سے متعلق ترمیمی بل پر بحث کرانے کی درخواست کی ، جس پر اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم اس بل کو پاس کریں گے ، لیکن ایوان میں ہنگامہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ایوان کی ہنگامہ آرائی ختم ہوگی ، تو اس بل کو پاس کریں گے۔
      اس کے بعد مسٹر نقوی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر چاہیں تو ایوان فوراہی آرڈر میں آسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور اقتدار میں کئی بار صدر راج نافذ کیا گیا ہے۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ ہم بھی نعرے بازی کرنا چاہتے ہیں ، ایوان میں شائستگی سے بات کی جانی چاہئے۔
      راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین پی۔جے ۔ کورین نے اراکین سے اپنی نشست پر جانے اور بل پر بحث شروع کرنے کی بار بار اپیل کی لیکن اراکین کا ہنگامہ جاری رہا ۔ اس کے بعد مسٹر کورین نے ایوان کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی۔
      First published: