ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اے ایم یو کے اقلیتی کردار کے مسئلے پر زبردست ہنگامہ ہنگامہ ، راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی

نئی دہلی: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) سے باہر اس کے کیمپس کو بند کرانے اور یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو برقرار رکھنے کے مطالبے پر آج اپوزیشن پارٹیوں کے راجیہ سبھا میں زور دار ، ہنگامے کی وجہ سے وقفہ صفر میں رخنہ پڑا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 04, 2016 02:52 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اے ایم یو کے اقلیتی کردار کے مسئلے پر زبردست ہنگامہ ہنگامہ ، راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی
نئی دہلی: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) سے باہر اس کے کیمپس کو بند کرانے اور یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو برقرار رکھنے کے مطالبے پر آج اپوزیشن پارٹیوں کے راجیہ سبھا میں زور دار ، ہنگامے کی وجہ سے وقفہ صفر میں رخنہ پڑا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

نئی دہلی: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) سے باہر اس کے کیمپس کو بند کرانے اور یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو برقرار رکھنے کے مطالبے پر آج اپوزیشن پارٹیوں کے راجیہ سبھا میں زور دار ، ہنگامے کی وجہ سے وقفہ صفر میں رخنہ پڑا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔


سماج وادی پارٹی کئے لیڈر جاوید علی خان نے وقفہ صفر کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو کے وجود پر سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے دور اقتدار میں اقلیتوں کی حالت جاننے کے لئے قائم کردہ سچر کمیٹی کی سفارشات کے پیش نظر اے ایم یو نے احاطے سے باہر پانچ آف کیمپس بنانے کا فیصلہ کیا تھا جن میں سے تین کام کررہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ دو کیمپس ابھی شروع کئے جانے ہیں لیکن اس کے وائس چانسلر کے حوالے سے خبریں آرہی ہیں کہ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل اسمرتی ایرانی نے ان سینٹروں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مالی امداد بند کرنے کی وارننگ دی ہے۔


مسٹر جاوید علی خان نے کہا کہ یہ سینٹرل یونیورسٹی ہے اور صدر جمہوریہ کی منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ نافذ العمل نہیں ہوسکتا۔ اس کے ساتھ ہی مرکز نے عدالت میں ایک نیا حلف نامہ پیش کیا ہے جس سے اس ادارے کی خودمختاری اور اس کے اقلیتی درجے کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔


اس کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ ملک میں اے ایم یو جیسے سیکٹروں خودمختار ادارے اور سینٹرل یونیورسٹی ہیں ۔ اس کے اقلیتی کردار کا معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اور اس معاملے میں اس کا فیصلہ قا بل قبول ہوگا۔


یہ جواب سننے کے بعد کانگریس کے لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا کہ یو پی اے حکومت کے حلف نامے کو واپس لیکر مودی حکومت نے نیا حلف نامہ داخل کیا ہے۔

First published: Mar 04, 2016 02:52 PM IST