اپنا ضلع منتخب کریں۔

    سہارا- برلا ڈائری گیٹ : درخواست گزر کو پختہ ثبوتوں کے ساتھ پیش ہونے کی سپریم کورٹ کی ہدایت

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    جسٹس جے ایس کیہر اور جسٹس ارون کمار مشرا کی بنچ نے غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کامن كاز کی جانب سے جرح کرنے والے معروف وکیل پرشانت بھوشن سے کہا کہ وہ پختہ ثبوتوں کے ساتھ آئندہ جمعہ کو اس کے سامنے جرح کریں

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ نے سہارا-برلا گروپ کی طرف سے سیاستدانوں کو رقم فراہم کرنے کے معاملے میں درخواست گزار کے وکیل کو پختہ ثبوتوں کے ساتھ جمعہ کو پیش ہونے کی آج ہدایت دی۔ جسٹس جے ایس کیہر اور جسٹس ارون کمار مشرا کی بنچ نے غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کامن كاز کی جانب سے جرح کرنے والے معروف وکیل پرشانت بھوشن سے کہا کہ وہ پختہ ثبوتوں کے ساتھ آئندہ جمعہ کو اس کے سامنے جرح کریں۔
      کورٹ نے کہا، ’’درخواست گزار کے الزام سنگین ہیں اور اعلی آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے خلاف ہیں۔ آپ (درخواست گزار) ملک کے وزیر اعظم پر بھی الزام لگا رہے ہیں۔ ایسے میں ان پر یوں ہی الزام نہیں لگائے جا سکتے، اگر آپ کے پاس پختہ ثبوت ہوں تبھی معاملے کی مزید سماعت کریں گے۔ عدالت عظمی نے کہا کہ اگر ایسے ہی الزام لگائے جاتے رہے تو آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ جسٹس کیہر نے کہا، ’’ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس معاملے میں کوئی ثبوت دیں تو ہم سماعت کریں گے‘‘۔
      مسٹر بھوشن نے دلیل دی کہ وہ وزیر اعظم پر الزام نہیں لگا رہے، بلکہ سہارا-برلا گروپوں پر مارے گئے چھاپے کے دوران محکمہ انکم ٹیکس کو دستاویزات ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس محکمہ کے پاس 1500 صفحات کی رپورٹ بھی ہے جس پر وہ حلف نامہ داخل کرے گا۔ گذشتہ 12 دسمبر کو عدالت بند تھا، اس لئے انہوں نے طے کیا کہ وہ اس رپورٹ کو كھنگال كر حلف نامہ داخل کرے گا۔ فہرست میں اگلی تاریخ 11 جنوری دکھائی دے رہی تھی۔ اس پر جسٹس کیہر نے کہا، ’’تاریخ 14 دسمبر پہلے سے ہی طے تھا۔ ایک بار ہم نے جو تاریخ دے دی، اسے کوئی نہیں بدل سکتا۔ چیف جسٹس بھی بینچ تبدیل کر سکتے ہیں، لیکن تاریخ نہیں‘‘۔
      انہوں نے کہا کہ اس کے لئے زیادہ وقت نہیں دیا جا سکتا۔ پہلے ہی کہہ دیا گیا تھا کہ کوئی ثبوت ہوگا تبھی سماعت ہوگی۔ اس پر مسٹر بھوشن نے کہا کہ اتنی جلدی کیوں ہے، تو عدالت نے کہا کہ کیونکہ لوگ بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ جسٹس مشرا نے کہا، ’’اگر اسی طرح الزام لگتے رہے تو وہ (بڑے عہدے پر بیٹھے لوگ) کام کیسے کریں گے؟ پچھلی بار (مسٹر) شانتی بھوشن اور (مسٹر) رام جیٹھ ملانی نے کہا تھا کہ وہ ریکارڈ کے ساتھ ثبوت رکھیں گے، لیکن آج دونوں میں سے کوئی عدالت نہیں آئے‘‘۔
      واضح رہے کہ گذشتہ 25 نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سہارا اور برلا گروپ کی طرف سے بڑے لیڈروں کو کروڑوں روپے دینے کے معاملے کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے جانچ کرانے سے انکار کر دیا تھا۔ کورٹ نے کہا تھا کہ کیونکہ معاملہ ایک بڑے عوامی نمائندے سے منسلک ہے، صرف اس لئے معاملے کی تحقیقات کا حکم نہیں دیے جا سکتے۔ جو دستاویزات فراہم کرائے گئے ہیں، ان کی بنیاد پر تحقیقات نہیں کرائی جا سکتی، کیونکہ سہارا کے دستاویزات تو پہلے ہی فرضی پائے گئے ہیں۔
      کامن كاز کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور انکم ٹیکس محکمہ کے چھاپے میں ایسے دستاویزات ملے تھے جس میں گجرات کے سابق وزیر اعلی نریندر مودی (موجودہ وزیر اعظم) سمیت کئی سیاستدانوں کو کروڑوں روپے کی رشوت دینے کی بات کہی گئی ہے۔ درخواست گزار نے ضبط شدہ دستاویزات کو عدالت میں پیش کئے جانے کی ہدایات دینے کی درخواست بھی کی ہے۔
      First published: