உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مبینہ طور پر ہندو انتہاپسندانہ واقعات کی مخالفت میں ایک اور کشمیری مصنف نے اکادمی ایوارڈ واپس کیا

    نئی دہلی۔  مبینہ طور پر ہندو انتہاپسندانہ واقعات کی مخالفت میں کشمیر کے مشہور مصنف مرغوب بنیہالی نے بھی ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کردیا ہے۔

    نئی دہلی۔ مبینہ طور پر ہندو انتہاپسندانہ واقعات کی مخالفت میں کشمیر کے مشہور مصنف مرغوب بنیہالی نے بھی ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کردیا ہے۔

    نئی دہلی۔ مبینہ طور پر ہندو انتہاپسندانہ واقعات کی مخالفت میں کشمیر کے مشہور مصنف مرغوب بنیہالی نے بھی ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کردیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  مبینہ طور پر ہندو انتہاپسندانہ واقعات کی مخالفت میں کشمیر کے مشہور مصنف مرغوب بنیہالی نے بھی ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کردیا ہے۔ مسٹر بنیہالی کو 1979 میں ’پرتی وستان‘ شعری مجموعہ کی تصنیف پر اکادمی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا تھا۔


      واضح رہے کہ گزشتہ نو اکتوبر کو اودھم پور میں ہجوم نے پیٹرول بم سےحملہ کرکے زاہد احمد نامی ایک شخص کو قتل کردیا تھا ۔ اس واقعہ کے پیچھے ہندو انتہاپسند تنظیموں کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔


      مسٹر بنیہالی نے زاہد کے قتل کی مخالفت میں اپنا اکادمی ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔
      واضح رہے کہ ہجوم نے ایک ٹرک کا شیشہ توڑ کر اس کے اندر پٹرول بم پھینکا تھا جس سے اس کے اندر بیٹھے کنڈکٹر زاہد احمد اور اس ٹرک کا ڈرائیور شوکت شدید طور پر جھلس گئے تھے۔ انہیں جموں میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا تھا۔ بعدازاں انہیں دہلی کے صفدر جنگ اسپتال ریفر کیا گیا جہاں زاہد نے کل دم توڑ دیا تھا۔ مسٹر بنیہالی کشمیر کے دوسرے مصنف ہیں جنہوں نے ایوارڈ واپس کیا ہے۔

      First published: