ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اس بجٹ میں ٹھگے گئےہیں'ملازمت پیشہ لوگ'؟حکومت کے ریونیو کیلئےمتوسط طبقہ ملازمت پیشہ لوگ اہم کیوں؟

بات کی۔تقریرکے دوران جیٹلی نے 27 مرتبہ'کسان'لفظ کاذکرکیا، جبکہ 29 بار ان کے منہ سے 'زرعی' لفظ نکلا۔اتنا ہی نہیں ارون جیٹلی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے21مرتبہ ملک کے غریبوں کا ذکر کیا لیکن ٹیکس دینے والے نوکری پیشہ لوگوں کی بات انہوں نے صرف 7بار کی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے غریبوں اورکسانوں کی ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ باتیں ہونی چاہئیں لیکن ہم نے جن اعدادوشمار کاذکر کیا اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ حکومت نے ملازمت پیشہ لوگوں کو نظر انداز کیا ہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اس بجٹ میں ٹھگے گئےہیں'ملازمت پیشہ لوگ'؟حکومت کے ریونیو کیلئےمتوسط طبقہ ملازمت پیشہ لوگ اہم کیوں؟
حکومت کے ریوینیو کیلئے متوسط طبقہ اہم کیوں؟

نئی دلی۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنے بجٹ کی تقریرمیں تقریبا آٹھ گھنٹے تک زرعی علاقے کی بات کی۔تقریرکے دوران جیٹلی نے 27 مرتبہ'کسان'لفظ کاذکرکیا، جبکہ 29 بار ان کے منہ سے 'زرعی' لفظ نکلا۔اتنا ہی نہیں ارون جیٹلی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے21مرتبہ ملک کے غریبوں کا ذکر کیا لیکن ٹیکس دینے والے نوکری پیشہ لوگوں کی بات انہوں نے صرف 7بار کی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے غریبوں اورکسانوں کی ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ باتیں ہونی چاہئیں لیکن ہم نے جن اعدادوشمار کاذکر کیا اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ حکومت نے ملازمت پیشہ لوگوں کو نظر انداز کیا ہے۔ایسے میں نوکری پیشہ لوگ خود کو ٹھگا محسوس کر رہے ہیں۔


حکومت کے ریونیو کیلئے متوسط طبقہ ملازمت پیشہ لوگ اہم کیوں ہے۔اس کا ذکر بھی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اہنی تقریر میں کیا۔اب ذرا ان اعدادو شمار پر نظر ڈالئے۔


سال 2016۔17میں ایک ملازمت پیشہ شخص نے کسی ایک کاروباریشخص کے مقابلے اوسط تین گنا زیادہ ٹیکس دیا ہے۔


سال 2016۔17میں 1.89کروڑ ملازمت پیشہ لوگوں نے رٹرن فائل کیا۔ان لوگوں نے کل ملاکر 1.44لاکھ کروڑ کا ٹیکس حکومت کو دیا،یعنی اوسط ایک آدمی نے 76,306روپئے ٹیکس بھرا۔
وہیں 1.88کروڑ کاروباری اور پروفیشنل نے صرف 48,000کروڑ ٹیکس دیایعنی اوسط ایک آدمی نے 25,753روپئے ٹیکس کے طور پر بھرے۔

چھوٹے اور درمیانی کاروباری اداروں کیلئے جیٹلی نے کوئی راحت بھرے اقدامات کی پیشکش نہیں کی ہے۔کارپوریٹ ٹیکس کو بھی کافی کم کیا گیا ہے لیکن تمام اٹکلوں کے باوجود اس مرتبہ ملازمت پیشہ لوگوں کو انکم ٹیکس کے سلیب میں کوئی راحت نہیں ملی ہے۔جبکہ ملازمت پیشہ کو اس بار کے بجٹ کے بعد نقصان ہی اٹھانا پڑیگا۔ٹرانسپورٹ الاؤنس ،میڈٰکل رمبرسمینٹ اور دیگر الاؤنس چھن جائیں گے۔ابھی تک 15ہزار روپئے تک کا میڈیکل بل پر مالی سال ٹیکس فری ہوتا تھا۔وہیں ٹرانسپورٹ الاؤونس کے طور ملازمین کو ہر مالی سال 19200روپئے کی چھوٹ ملتی تھی۔اس کے علاوہ اب انکم ٹیکس پر سیس 3فیصدی سے بڑھاکر 4فیصدی کردیا گیا ہے۔
یعنی مڈل کلاس کو ٹیکس میں کوئی چھوٹ نہیں ملنے والی ہے۔اس طرح سے ٹیکس چھوٹ والی آمدنی کی حد 5800روپئے بڑھ جائے گی۔یعنی اب ڈھائی لاکھ نہیں 2لاکھ55ہزار 800روپئے تک کی سالانہ آمدنی ٹیکس فری ہوگی۔
کلیئر ٹیکس کے فاؤنڈر ارچت گپتا کے مطابق اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن تو واپس لایا گیا ہےلیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں۔انہوں نے کہا 'لوگ میڈیکل رمبرسمینٹ 15000سے بڑھانے کی مانگ کر رہے تھے لیکن حکومت نے اسے ہٹا ہی دیاہے یعنی 1فیصد سیس بڑھنے کے بعد لوگوں کو اور نقصان سہنا پڑے گا۔

بتادیں کہ صرف اچھی خبر بزرگ لوگوں  کیلئے ہے۔ بینکوں اور ڈاک گھروں کے ساتھ جمع پیسے پر بیازرقم کی چھوٹ کو 10,000روپئے سے بڑھاکر 50,000کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ہیلتھ انشورینس پریمیم اور طبی اخراجات کیلئے کٹوتی کی حد 30,000سے بڑھ کر 50,000کر دی گئی ہے۔اس کے علاوہ سبھی بزرگ لوگ اب کسی بھی ہیلتھ انشورینس پریمیم اور عام دوا کے خرچ کے متعلق ہر سال 50,000روپئے تک کٹوتی کے فائدے کا دعوی کر سکتے ہیں۔جیٹلی نے کہا کہ وہ بجٹ کے ذریعہ سے متوسط طبقہ کو کئی راحت کے متبادل دے رہے ہیں۔
First published: Feb 02, 2018 11:04 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading