உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوٹ بندی: کھاتے میں آئی سیلری، بینکوں کے باہر اور طویل ہوئیں قطاریں

    ملک بھر کے نوکری پیشہ طبقے کی ٹینشن تنخواہ پانے کی ہی ہے، اس لیے بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر قطاریں طویل ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

    ملک بھر کے نوکری پیشہ طبقے کی ٹینشن تنخواہ پانے کی ہی ہے، اس لیے بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر قطاریں طویل ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

    ملک بھر کے نوکری پیشہ طبقے کی ٹینشن تنخواہ پانے کی ہی ہے، اس لیے بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر قطاریں طویل ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

    • News18.com
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ دسمبر کی پہلی تاریخ ہے، لیکن نوٹ بندی کے چلتے کیش نکالنے میں تکلیفیں برقرار ہیں۔ بینک اکاؤنٹ میں گری تنخواہ کو بٹوے تک ڈالنے کے لئے اے ٹی ایم کی قطار سے ملک کو گزرنا پڑ رہا ہے۔ ملک بھر کے نوکری پیشہ طبقے کی ٹینشن تنخواہ پانے کی ہی ہے، اس لیے بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر قطاریں طویل ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ تمام نوکری پیشہ لوگ اے ٹی ایم مشینوں کا رخ کریں گے تو قطاریں بھی روز سے زیادہ طویل ہوں گی۔ صبح سے ہی بینکوں کے باہر طویل قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

      حکومت کے ساتھ ساتھ ریزرو بینک بھی پہلی تاریخ کو بڑا چیلنج مان رہا ہے۔ اب تک تمام اے ٹی ایم مشینوں کو درست نہ کر پانا حکومت کی ایک بڑی ناکامی ہے جس کی وجہ سے دقت اور بھی بڑی ہے، لیکن ریزرو بینک نے بھی کمر کس لی ہے۔ ریزرو بینک کے ڈپٹی گورنر ایس ایس مدرا نے سیلری بحران پر اعلی سطحی میٹنگ لی۔ میٹنگ میں آر بی آئی افسر، نیشنل پیمنٹ کارپ، کیش لاجسٹک کمپنیاں اور اے ٹی ایم مشینیں چلانے والی کمپنیوں کے اہلکار شامل ہوئے۔

      ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں کیش نکالنے کے اعداد و شمار پر باریکی سے غور کیا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر ماہ 28 سے 5 تاریخ کے درمیان اے ٹی ایم مشینوں سے معمول سے دو گنا کیش نکالا جاتا ہے۔ ریزرو بینک نے حالات سنبھالنے کے لئے خاص ٹاسک فورس کا قیام کیا ہے۔ ایس ایس مدرا کی قیادت میں یہ ٹاسک فورس مارکیٹ میں کافی کیش پہنچانے کی کوشش کرے گی۔

      fogdelhi1

      مہینے کے پہلے ہفتے میں اے ٹی ایم مشینوں اور بینکوں میں بڑھنے والی بھیڑ کی وجہ صرف نوکری پیشہ لوگ نہیں بلکہ پنشن پانے والے بزرگ بھی ہیں۔ بزرگوں کی تکلیف اس وجہ سے زیادہ ہے، کیونکہ بزرگ میں زیادہ بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو نئے زمانے کی آن لائن دنیا سے واقف نہیں ہیں۔

       
      First published: