ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لائیو اپ ڈیٹ: تقریر کرتے کرتے رو پڑے اکھلیش، ملائم بولے، اکھلیش کو ہٹایا نہیں جائے گا

ملائم نے آج لکھنؤ میں پارٹی دفتر میں پارٹی ممبران پارلیمنٹ ، ممبران اسمبلی، سابق ممبران پارلیمنٹ اورایم ایل سی کی میٹنگ بلائی ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Oct 24, 2016 02:35 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
لائیو اپ ڈیٹ: تقریر کرتے کرتے رو پڑے اکھلیش، ملائم بولے، اکھلیش کو ہٹایا نہیں جائے گا
ملائم نے آج لکھنؤ میں پارٹی دفتر میں پارٹی ممبران پارلیمنٹ ، ممبران اسمبلی، سابق ممبران پارلیمنٹ اورایم ایل سی کی میٹنگ بلائی ہے۔

لکھنؤ۔ سماج وادی پارٹی میں جاری گھمسان ​​فی الحال تھمتا نظر نہیں آتا ہے۔ کنبے کو متحد رکھنے کی ملائم سنگھ کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ رام گوپال یادو کو پارٹی سے نکالنے کے بعد یہ طے ہو گیا کہ حالات سدھرنے نہیں جا رہے۔ امر سنگھ کے سوال پر اکھلیش بھی فی الحال جھکنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ لکھنؤ میں پارٹی دفتر میں پارٹی ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی میٹنگ سے پہلے ہی دفتر کے باہر ہنگامہ مچا رہا۔اکھلیش-شیو پال حامیوں میں مار پیٹ تک ہو گئی۔


تمام رہنماؤں کے پہنچنے کے بعد تقریباً 10.30 بجے میٹنگ شروع ہوئی۔ میٹنگ میں سب سے پہلے اکھلیش نے تقریر کی اور اسی دوران وہ جذباتی ہو گئے۔ان کا گلا بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے بعد شیو پال تقریر کرنے اسٹیج پر آئے اور اکھلیش کو نشانے پر لیا۔  پھر ملائم سنگھ نے منچ  سنبھالا اور شیو پال کا دفاع کرتے ہوئے اکھلیش کو جم کر سنایا۔ کیا کیا ہو رہا ہے آج جانیں اپڈیٹ۔


اکھلیش یادو ملائم سے ملنے ان کے گھر پہنچے۔ ملائم نے کہا، اکھلیش کو ہٹایا نہیں جائے گا۔ شیو پال بھی ملائم سے ملنے پہنچے۔


سماج وادی پارٹی کی میٹنگ ختم ہونے سے پہلے ملائم نے اکھلیش اور شیو پال سے گلے ملنے کو کہا۔ ملائم نے کہا کہ شیو پال تمہارے چچا ہیں، ان سے گلے ملو۔ دونوں گلے بھی ملے، لیکن پھر تکرار شروع ہو گئی۔ اکھلیش اٹھے اور کہا کہ سارے لیڈروں کے سامنے کہنا چاہتا ہوں کہ آشو ملک جانتا ہے کہ امر سنگھ نے میرے خلاف آرٹیکل لکھوایا جس میں مجھے اورنگ زیب کہا گیا۔ فوری طور پر شیو پال اٹھے اور تیز آواز میں کہا کہ امر سنگھ نے ایسا کچھ نہیں کیا، میں جانتا ہوں۔ پھر اکھلیش اور زور سے بولے، میں بھی سارا سچ جانتا ہوں۔ اس کے بعد مائیک کو بند کر دیا گیا۔ زبردست نعرے بازی شروع ہو گئی۔

ملائم کی تقریر: اکھلیش اور شیو پال کی تقریر کے بعد پارٹی صدر ملائم سنگھ نے اپنی بات رکھی۔ ملائم نے کہا، میں 13 سال کی عمر میں پہلی بار جیل گیا۔ گلیوں میں لوہیا جی کے حق میں نعرے لگائے جا رہے تھے۔ ایسی لاٹھی چلی کہ سانپ کی طرح پیٹھ ہو گئی تھی۔ آج جو اچھل رہے ہیں، ایک لاٹھی مار دیں تو پتہ نہیں چلے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ کتنی مشکل جنگ ہے۔ میں نے آپ کو بلایا ہے۔ پارٹی کے لئے بہت محنت کرنی ہے۔ جو تنقید نہیں سن سکتا وہ باہر جائے۔ نعرے بازی اچھی نہیں ہے۔

شیو پال کی تقریر:  اکھلیش کی تقریر کے بعد شیو پال نے کمان سنبھالتے ہوئے اکھلیش پر جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا ڈسپلن  شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جو چیخ رہے ہیں وہ غیر مجاز لوگ ہیں۔ میں بھی اپنے لوگوں کو بلا کر جواب دے سکتا تھا۔ میں نے بھی پارٹی کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  نیتا جی آپ کی جدوجہد سے پارٹی یہاں تک پہنچی ہے۔ سی ایم کی پیدائش 1972 میں ہوئی تھی اور میں نے پارٹی کے لئے تبھی سے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہم لوگ سائیکل سے گاؤں گاؤں جاتے تھے۔ ایک بھی گاؤں نہیں چھوڑا تھا۔ نیتا جی نے میرے کام کی تعریف کی ہے۔ کیا میرے محکموں میں اچھا کام نہیں ہوا؟ نیتا جی آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ میرا کیا قصور تھا؟ کیا میں نے وزیر اعلی سے کم کام کیا؟ میں نے نیتا جی اور سی ایم کا ہر حکم مانا ہے۔

آپ نے حکم کیا کہ آپ کو ہٹا کر اکھلیش کو ریاستی صدر بنایا جا رہا ہے۔ اکھلیش یادو کے ریاستی صدر بننے پر میں نے ایئر پورٹ جاکر ان کا استقبال کیا تھا۔  آپ کے حکم پر میرے ساتھ کیا ہوا، مجھے کیوں ہٹا دیا گیا؟ لیکن اس بار فوری طور پر مجھ سے محکمے چھین لئے گئے۔ کیا ہم نے کم کام کیا تھا؟ میں نے کون سا وزیر اعلی کا حکم نہیں مانا؟ میں نے ہر حکم وزیر اعلی جی اور نیتا جی کا مانا ہے۔ مجھ سے کیا جھگڑا تھا؟ نہیں بلایا جاتا تھا تب بھی میں جاکر ملتا تھا۔ میں گنگا جل اٹھا کر ایک بچے کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں کہ وزیر اعلی نے مجھ سے کہا تھا کہ میں نیا ٹیم بناؤں گا اور کسی بھی پارٹی سے اتحاد کر الیکشن لڑوں گا۔ نیتا جی آپ بیرونی طاقتوں سے لڑ رہے تھے۔ 2003 میں حکومت کس طرح بنی تھی، امر سنگھ نے تعاون دیا تھا۔ ہم محنت کرنے والے لوگ ہیں اور باقی لوگ ملائی چاٹنے والے ہیں۔ نیتا جی کی پارٹی میں وہی رہے گا جو ایمانداری سے کام کرے گا۔ دلالی نہیں کرے گا، زمینوں پر قبضے نہیں ہوں گے، غیر قانونی کام نہیں ہوں گے۔

مختار انصاری نے کبھی بھی پارٹی کو جوائن نہیں کیا تھا اور یہ لوگ افواہ پھیلا رہے ہیں وہ پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ ہم جھوٹ بولنے والوں اور پارٹی توڑنے والوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ تم لوگ امر سنگھ کے قدموں کی دھول بھی نہیں ہو۔ اس طرح کے لوگوں کو پارٹی سے نکالا جانا چاہئے۔ نیتا جی آپ مجھے چھوٹ دے دیجئے، میں سب کو ایک کر آپ کو دے دوں گا۔ راجیہ سبھا کے انتخابات میں میں نے نیتا جی کے کہنے پراجیت سنگھ سے بات کی تھی۔  سی ایم نے تو کسی سے رابطہ بھی نہیں کیا تھا۔ ہیلی کاپٹر کیا تمہارے باپ کا تھا؟ جس سے ہم لوگوں سے ملنے گئے۔ نیتا جی، جب آپ نکلیں گے تو یوپی میں طوفان آ جائے گا۔ میں اس لیے بتانا چاہتا ہوں، یہ حکومت اور حکومت میں جو بھی وزیر ہوتا ہے اس کی اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پہلے پڑھو، سیکھو اور نظم و ضبط میں رہنا سیکھو۔ جو پکے سپا وادی ہیں وہ 5 نومبر کو جو کانفرنس ہونے جا رہی ہے، اس میں ان کو آنا ہے۔

اكھلیش کی تقریر:  نیتا جی کا راستہ ہر کوئی جانتا ہے۔ آپ نے ہمیں ظلم کے خلاف لڑنے کا راستہ دکھایا ہے۔ میں نئی ​​پارٹی کیوں بناؤں گا۔ اگر کوئی سازش کر رہا ہے تو مجھے اس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ دوسرے لوگوں نے مہم شروع کر دی ہے۔ آپ کی پارٹی نے بہت سے کام کئے ہیں۔ آپ نے کہا کہ 24 ماہ کے اندر اندر ایکسپریس وے بن کر تیار ہو جانا چاہئے۔ ہم نے 22 ماہ میں تیار کر دیا۔ ہماری سالگرہ پر اس کا افتتاح کریں گے۔ یوپی حکومت واحد حکومت ہے جو 55 لاکھ خواتین کو پنشن دے رہی ہے۔

لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں نئی ​​پارٹی بناؤں گا۔ کون نئی پارٹی بنا رہا ہے؟ میں نہیں بنا رہا ہوں۔ میری ذمہ داری ہے کہ میں سازش کے خلاف کھڑا ہوں۔ اگر آپ نے استعفی مانگا ہوتا تو میں استعفی دے دیتا۔ آپ نے کہا کہ دیپک سنگھل کو ہٹاؤ، میں نے ہٹا دیا۔ آپ نے کہا تھا گایتری پرجاپتی کو ہٹاؤ، میں نے ہٹا دیا۔ مجھے ہٹانے کی بات پر امر سنگھ بیٹھے تھے۔ امر سنگھ نے گزشتہ سال ٹویٹ کیا تھا کہ یوپی میں سماجوادی پارٹی میں تبدیلی کریں گے اور وزیر اعلی کو بدلا جائے گا۔ رام گوپال جی نے کبھی بھی مجھ سے کسی کو ہٹانے کے لیے نہیں کہا تھا۔ یہ میرا کیریئر ہے، سیاست چھوڑ دوں گا تو کہاں جاؤں گا؟ میں کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نیتا جی سے اپنے دل کی بات کہیں۔

اکھلیش نے کارکنوں سے خطاب كيا۔ کہا، مجھے نیتا جی اور شیو پال جی کے سامنے بولنے کا موقع دیجئے کیونکہ بہت سے لوگ ہمارے درمیان دراڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ جو بات سننا نہیں چاہتے وہ چلے جائیں۔

ak

ایس پی دفتر جانے سے پہلے شیو پال یادو ملائم سنگھ سے ملنے پہنچے۔ شیو پال یادو نے کہا سیدھے انتخابات کی تیاری، الیکشن میں جانا ہے۔ نیتا جی آئیں گے اور خطاب کریں گے۔ یہ (ایس پی میں گھمسان) تو ہونا ہی تھا۔

پارٹی دفتر کے باہر جمع ہوئے ایس پی کارکنان۔ اکھلیش یادو اور شیو پال یادو کے حامی دفتر کے باہر جمع ہیں۔ دونوں کے حامی اپنے رہنما کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ایس پی دفتر کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات، ہنگامہ اور تنازعہ کا بھی خدشہ۔

ak1

رام گوپال بولے، اکھلیش خود ایک پارٹی، انہیں نئی ​​پارٹی بنانے کی ضرورت نہیں۔

شیو پال نے سماجوادی حامیوں سے کہا کہ صرف ایک ہی نعرہ لگے گا 'ملائم زندہ باد'۔

اکھلیش حامیوں کی نعرے بازی سے شیو پال ناراض، بولے غنڈئی نہیں کرنے دی جائے گی۔

اکھلیش اور شیو پال کے حامیوں کے درمیان نعرے بازی کے بعد مار پیٹ۔ دفتر کے باہر بھاری ہنگامہ۔

ایس پی دفتر کے باہر کارکنوں اور پولیس کے درمیان دھکا مکی۔ دفتر کے باہر شیو پال حامیوں کی نعرے بازی۔

letter_akshya

رام گوپال یادو کے بیٹے اکشے یادو نے خط لكھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جس طرح سے میرے والد کو پارٹی سے نکالا گیا ہے اس سے میں انتہائی دلبرداشتہ ہوں۔ ہمارے خلاف لگائے گئے تمام الزامات غلط ہیں۔ اکھلیش سے اتنا برا سلوک کیا گیا کہ انہیں دوسرے گھر میں شفٹ ہونا پڑا۔ ان کا سامان کمرے سے پھینک دیا گیا۔ ہم اکھلیش کو ہی وزیر اعلی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
First published: Oct 24, 2016 09:55 AM IST