உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سنت نرنكاری بابا ہردیو سنگھ کا کینیڈا میں سڑک حادثہ میں انتقال

    نئی دہلی : سنت نرنكاری مشن کے سربراہ بابا هردیو سنگھ کا کینیڈا کے ماٹريل میں ایک سڑک حادثہ میں آج انتقال ہو گیا۔

    نئی دہلی : سنت نرنكاری مشن کے سربراہ بابا هردیو سنگھ کا کینیڈا کے ماٹريل میں ایک سڑک حادثہ میں آج انتقال ہو گیا۔

    نئی دہلی : سنت نرنكاری مشن کے سربراہ بابا هردیو سنگھ کا کینیڈا کے ماٹريل میں ایک سڑک حادثہ میں آج انتقال ہو گیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : سنت نرنكاری مشن کے سربراہ بابا هردیو سنگھ کا کینیڈا کے ماٹريل میں ایک سڑک حادثہ میں آج انتقال ہو گیا۔ وہ 62 سال کے تھے۔ بابا هردیو سنگھ کے انتقال کی خبر آتے ہی ان کے لاکھوں پیروکاروں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
      ان کے انتقال کی خبر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر شاهنواز حسین نے ٹویٹ کرکے دی۔ انہوں نے ٹویٹ کیا نرنكاري بابا هردیو سنگھ کی ماٹريل میں سڑک حادثہ میں موت ہو گئی۔ ان کے انتقال کی خبر بہت افسوسناک ہے۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ بابا هردیو سنگھ کے انتقال سے ملک کوبڑا نقصان پہنچا ہے۔ وہ روحانیت کے ذریعہ لوگوں کی خدمت کیا کرتے تھے۔ میں نے بھی ان کے سماگم میں شرکت کی ہے۔
      نرنكاري تنظیم کے ترجمان انل کمار نے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی۔ اس میں بابا شدید طور پر زخمی ہوئے تھے ۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہیں ہو سکے ۔ ان کے ساتھ گاڑی میں ان کے دو داماد بھی تھے۔ اس حادثے میں ان کے ایک داماد کو بھی چوٹیں آئی ہیں۔
      خیال رہے کہ بابا هردیو سنگھ کی پیدائش 23 فروری 1954 کو دہلی میں ہوئی تھی۔ 1971 میں وہ نرنكاري سیوا دل سے منسلک ہوئے تھے۔ انہوں نے 1980 میں والد کی موت کے بعد نرنكاري مشن کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کی موت سے پورا نرنكاري فرقہ صدمے میں ہے۔ نرنكاري مشن کی 27 ممالک میں 100 سے زیادہ شاخیں ہیں جو انسانیت کے فلاح و بہبود کے کاموں میں سرگرم ہے۔
      بابا هردیو سنگھ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی تھی۔ بعد میں انہوں نے دہلی کے سنت نرنكاري کالونی میں روسري اسکول اور پھر پٹیالہ کے ایک بورڈنگ اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ 1975 میں انہوں نے فرخ آباد کی سوندر کور سے شادی کی۔ سوندر دہلی میں نرنكاري سنت سماگم کی رکن تھیں۔
      First published: