உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    SBI Customers: ایس بی آئی کے یہ قواعد اگلے مہینے سے ہوں گے تبدیل، جانیے تفصیلات

    ایس بی آبی بینک کی فائل فوٹو

    ایس بی آبی بینک کی فائل فوٹو

    مذکورہ تفصیلات کے ضمن میں رواں مہینے کے شروع میں بینک کو مطلع کیا گیا ہے۔ ایک حالیہ بیان میں پبلک سیکٹر بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل طور پر کیے گئے 5 لاکھ روپے تک کے آئی ایم پی ایس لین دین پر کوئی سروس چارجز نہیں لگائے گا، جس میں انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ اور یونو YONO شامل ہیں۔

    • Share this:
      SBI IMPS, NEFT, RTGS Rules Change: اسٹیٹ بینک آف انڈیا آئی ایم پی ایس (IMPS)، این ای ایف ٹی (NEFT) اور آر ٹی جی ایس (RTGS) سمیت آن لائن لین دین کے سلسلے میں اپنی کارروائیوں میں تبدیلی سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔ ملک کے سب سے بڑے قرض دہندہ نے اپنے آئی ایم پی ایس (فوری ادائیگی کی خدمت) کے لین دین کی حد بڑھا دی ہے۔ اس کے تحت ایس بی آئی کے کھاتہ دار 2 لاکھ روپے کے بجائے 5 لاکھ روپے تک کا لین دین کر سکتے ہیں۔

      مذکورہ تفصیلات کے ضمن میں رواں مہینے کے شروع میں بینک کو مطلع کیا گیا ہے۔ ایک حالیہ بیان میں پبلک سیکٹر بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل طور پر کیے گئے 5 لاکھ روپے تک کے آئی ایم پی ایس لین دین پر کوئی سروس چارجز نہیں لگائے گا، جس میں انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ اور یونو YONO شامل ہیں۔

      ایس پی آئی نے 4 جنوری کو اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ صارفین کو ڈیجیٹل بینکنگ کو اپنانے کی ترغیب دینے کے مقصد میں ایس بی آئی نے روپے تک کے آئی ایم پی ایس لین دین پر یونو سمیت انٹرنیٹ بینکنگ/موبائل بینکنگ کے ذریعے 5 لاکھ روپے تک کوئی سروس چارجز نہیں لگائے ہیں۔ برانچ چینلز کے معاملے میں موجودہ سلیبس میں برانچ چینل کے ذریعے کیے جانے والے آئی ایم پی ایس کے سروس چارجز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔


      بینک نے مزید کہا کہ تاہم 2,00,000 روپے سے 5,00,000 روپے کے لیے ایک نیا سلیب شامل کیا گیا ہے اور اس سلیب کے لیے مجوزہ سروس چارجز 01.02.2022 سے 20 روپے + GST ​​ہے۔ IMPS پر سروس چارجز NEFT/RTGS ٹرانزیکشنز پر سروس چارجز کے مطابق ہیں۔ نئے چارجز اس سال 1 فروری سے لاگو ہونے جا رہے ہیں۔


      انٹرنیٹ یا موبائل بینکنگ کے ذریعے 5 لاکھ روپے تک کی کسی بھی IMPS ٹرانزیکشن پر کوئی سروس چارج یا GST نہیں لگایا جائے گا۔ اس میں YONO ایپ کے ذریعے لین دین شامل ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: