உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عبادت گاہوں کے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کیلئے 2 ہفتے کی مہلت، سپریم کورٹ میں جواب داخل کیا جائے

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    چیف جسٹس ادے امیش للت کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ نے جمعیۃ علماء ہند (Jamiat Ulama-i-Hind) کی طرف سے دائر درخواست سمیت دیگر تمام درخواستوں کی سماعت میں مداخلت کرنے کی اجازت دے دی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Hyderabad | Lucknow | Kolambe
    • Share this:
      سپریم کورٹ (Supreme Court ) نے جمعہ کے روز مرکز کو 1991 کے قانون مذہبی مقامات (خصوصی انتظامات) ایکٹ 1991 کی بعض دفعات کے جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ جس میں عبادت کی جگہ پر دوبارہ دعویٰ کرنے یا اس کے کردار میں تبدیلی کے لیے مقدمہ دائر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس ادے امیش للت کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ نے جمعیۃ علماء ہند (Jamiat Ulama-i-Hind) کی طرف سے دائر درخواست سمیت دیگر تمام درخواستوں کی سماعت میں مداخلت کرنے کی اجازت دے دی۔

      اس بنچ میں جسٹس ایس رویندر بھٹ اور پی ایس نرسمہا بھی شامل ہیں، اس نے حکم دیا کہ ان معاملات کی سماعت 11 اکتوبر کو تین ججوں کی بنچ کے ذریعہ کی جائے اور فریقین سے کہا کہ وہ اس وقت تک درخواستیں مکمل کریں۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 12 مارچ کو وکیل اشونی اپادھیائے کی طرف سے دائر کی گئی ایک عرضی پر مرکز سے جواب طلب کیا تھا جس میں قانون کی بعض دفعات کی درستگی کو چیلنج کیا گیا تھا جو ملکیت اور مذہبی کردار کے حوالے سے جمود کو برقرار رکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ جس کی حتمی تاریخ 15 اگست 1947 ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:


      درخواست میں کہا گیا ہے کہ 1991 کا قانون 15 اگست 1947 کی بنیاد پر تجاوزات کے خلاف عبادت گاہوں یا زیارت گاہوں کے کردار کے بارے میں حتمی قانون ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: