ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اروناچل میں دوبارہ بنے گی کانگریس کی حکومت، سپریم کورٹ نے دیا مودی حکومت کو بہت بڑا جھٹکا

نئی دہلی۔ مرکز کی مودی حکومت کو سپریم کورٹ کی طرف سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Jul 13, 2016 11:36 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اروناچل میں دوبارہ بنے گی کانگریس کی حکومت، سپریم کورٹ نے دیا مودی حکومت کو بہت بڑا جھٹکا
سپریم کورٹ: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ مرکز کی مودی حکومت کو سپریم کورٹ کی طرف سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش میں بنی كليكھو پل کی حکومت کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ گورنر کا فیصلہ غیر آئینی تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ریاست میں 15 دسمبر 2015 جیسی صورتحال بحال ہوگی۔


اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت دوبارہ بحال ہو جائے گی کیونکہ اس دن ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی اور نبام تکی ریاست کے وزیر اعلی تھے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ گورنر کا وقت سے پہلے اسمبلی سیشن بلانے کا فیصلہ اور اس تعلق سے پورا عمل غیر آئینی تھا۔ ساتھ ہی اسپیکر کو ہٹانا بھی غیر آئینی تھا۔


کورٹ نے گورنر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کابینہ پر بھی سوال اٹھائے کہ آخر کیوں اس فیصلے کو ہری جھنڈی دکھائی گئی۔ تمام پانچ جج اس بات پر متفق تھے کہ گورنر جيوتی پرساد راجكھووا نے غلط فیصلہ لیا۔


وہیں کانگریس نے اسے جمہوریت کی جیت قرار دیا ہے۔ سابق وزیر اعلی نبام تكی نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے آئین کی حفاظت کی ہے۔
First published: Jul 13, 2016 11:32 AM IST