ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نربھیا معاملہ: پون کے نابالغ ہونے کا دعویٰ سپریم کورٹ نے بھی کیا مسترد

نربھیا اجتماعی آبروریزی اور قتل معاملے کے گنہگار پون گپتا کی پھانسی سے بچنے کی ایک اور کوشش پیر کو اس وقت ناکام ہو گئی جب سپریم کورٹ نے بھی اس کے 16دسمبر 2012 کے واقعہ کے دن نابالغ ہونے کا دعوی خارج کردیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 20, 2020 04:00 PM IST
  • Share this:
نربھیا معاملہ: پون کے نابالغ ہونے کا دعویٰ سپریم کورٹ نے بھی کیا مسترد
نربھیا کا مجرم پون گپتا

نئی دہلی۔ نربھیا اجتماعی آبروریزی اور قتل معاملے کے گنہگار پون گپتا کی پھانسی سے بچنے کی ایک اور کوشش پیر کو اس وقت ناکام ہو گئی جب سپریم کورٹ نے بھی اس کے 16دسمبر 2012 کے واقعہ کے دن نابالغ ہونے کا دعوی خارج کردیا۔

جسٹس آر بھانومتی،جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس اے ایس بوپنا کی خصوصی بینچ نے دہلی ہائی کورٹ کے اس معاملےمیں 19دسمبر 2019 کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پون کی عرضی خارج کردی۔


بینچ کی جانب سے جسٹس بھانومتی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پون کے نابالغ ہونے کا دعوی نچلی عدالت اور ہائی کورٹ نے پہلے ہی خارج کردیا ہے اور اس دعوے پر غور کرنے کی عرضی میں کوئی خاص بنیاد نظر نہیں آتی۔ اس سے پہلے عدالت نے دوپہر بعد تقریباً 45منٹ تک پون کے وکیل اے پی سنگھ اور استغاثہ فریق کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلے کےلئے ڈھائی بجے کاوقت مقرر کیا تھا،لیکن بینچ آدھے گھنٹے دیر سے بیٹھی اور اس نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے پون کی خصوصی اجازت عرضی خارج کردی۔ سماعت کےدوران بینچ میں شامل تینوں ججوں نے پون کے وکیل سے کئی اہم سوال کئےتھے۔


نربھیا کیس کے چاروں ملزمان پون،مکیش ،اکشے اور ونےشرما


پون نے ہائی کورٹ کے گزشتہ 19دسمبر کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،جس میں واقعہ کے وقت اس کے نابالغ ہونے کی دلیل خارج کردی گئی تھی۔ پون نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ 16دسمبر 2012 کو نربھیا کےساتھ ہوئی حیوانیت کے دن وہ نابالغ تھا۔ عرضی میں کہاگیا تھا کہ اس نے اس سلسلے میں ہائی کورٹ کا رخ بھی کیا تھا،لیکن وہاں سے اسے راحت نہیں ملی تھی اور عرضی خارج کردی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اس نے خود کو پھانسی کے پھندے سے بچانے کےلئے یہ طریقہ نچلی عدالت میں بھی اپنایا تھا،جس نے اس سلسلے میں اس کی عرضی خارج کردی تھی۔ اس کے بعد اس نے ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ وہاں سے بھی مایوسی ہاتھ لگنےکے بعد پون نے اب سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔

16دسمبر 2012 کو دارالحکومت دہلی میں نربھیا کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کئےجانےکے بعد اسے نازک حالت میں پھینک دیا گیاتھا۔ دہلی میں علاج کے بعد اسے ایئرلفٹ کرکے سنگاپور کے کوین الیزابیتھ اسپتال لے جایا گیا تھا،جہاں اس کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے کے چھ ملزمین میں سے ایک نابالغ تھا جسے اصلاحی مرکز بھیجا گیاتھا۔ اس نے وہاں سزا پوری کرلی تھی۔ ایک ملزم رام سنگھ نے تہاڑ جیل میں پھانسی لگا لی تھی۔چار دیگر قصورواروں -پون،مکیش ،اکشے اور ونےشرما کو پھانسی کے لئے بلیک وارنٹ جاری کیا جاچکا ہے۔
First published: Jan 20, 2020 04:00 PM IST