உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روہنگیا کے پناہ گزین غیرقانونی طریقے سے ہندوستان میں مقیم تھے: جسٹس رنجن گوگوئی

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے7 روہنگیا مسلمانوں کی حوالگی کے مرکزی حکومت کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار کردیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
       نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آسام کے سلچر میں حراست میں رکھے گئے7 روہنگیا مسلمانوں کی حوالگی کے خلاف دائر پٹیشن آج مسترد کر دی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے7 روہنگیا مسلمانوں کی حوالگی کے مرکزی حکومت کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار کر دیا۔

      جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا ’’یہ روہنگیا غیر قانونی طریقے سے بھارت میں رہ رہے تھے اور میانمار حکومت نے انہیں اپنا شہری مانا ہے۔ ایسی صورت میں ان کی حوالگی کے مرکز کے فیصلہ میں دخل دینا مناسب نہیں ہے‘‘۔
      اس سے قبل ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے ایک حلف نامہ دائر کرکے کہا کہ میانمار کے سفارت خانہ نے ان لوگوں کو سرٹیفکیٹ آف آئڈنٹیٹي (سی اوآئی) دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن درخواست گزار کی جانب سے پیش پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ یہ لوگ غیر قانونی اوورسیزشہری نہیں ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اقوام متحدہ کے حکام کو ان لوگوں سے بات چیت کرنے دے۔
      میانمار کوحوالہ کئے جانے والے ساتوں روہنگیا ئی مسلمانوں کے نام ہیں- محمد یونس، محمد شبير احمد، محمد جمال، سلام، محمد مكنل خان، محمد رحیم الدین اور محمد جمال حسین۔ ان میں سے 6 میانمار کے فیدا ضلع کے کیٹو گاؤں کے رہائشی ہیں، جبکہ شبير احمد برما گاؤں کا رہنے والا ہے۔
      یہ لوگ 2012 سے رہ رہے تھے اور غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے کی پاداش میں جیل بھی جا چکے ہیں۔
      First published: