உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتراکھنڈ اسمبلی میں طاقت آزمائی کے دوران باغی اراکین نہیں دے سکیں گے ووٹ : سپریم کورٹ

    نئی دہلی۔ اتراکھنڈ کے باغی ممبران اسمبلی کو نینی تال ہائی کورٹ کے بعد اب سپریم کورٹ سے بھی زبردست جھٹکا لگا ہے۔

    نئی دہلی۔ اتراکھنڈ کے باغی ممبران اسمبلی کو نینی تال ہائی کورٹ کے بعد اب سپریم کورٹ سے بھی زبردست جھٹکا لگا ہے۔

    نئی دہلی۔ اتراکھنڈ کے باغی ممبران اسمبلی کو نینی تال ہائی کورٹ کے بعد اب سپریم کورٹ سے بھی زبردست جھٹکا لگا ہے۔

    • Share this:

      نئی دہلی۔ اتراکھنڈ کے باغی ممبران اسمبلی کو نینی تال ہائی کورٹ کے بعد اب سپریم کورٹ سے بھی زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اتراکھنڈ میں حکومت کے لئے کل ہونے والے فلور ٹیسٹ سے دور رکھے جانے کے فیصلے پر باغی ممبران اسمبلی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے ان کی اپیل کے لئے اگلی سماعت دو ماہ بعد یعنی 12 جولائی کا دن طے کر دیا ہے ۔ اب کل فلور ٹیسٹ میں باغی ممبران اسمبلی حصہ نہیں لے پائیں گے۔


      سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ایک طرف جہاں باغی ممبران اسمبلی کو زبرسدت جھٹکا لگا ہے، وہیں ہریش راوت کے لئے راحت والی بات ہے۔ کانگریس کے 9 باغیوں کی عرضی آج ہی نینی تال ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھی۔ ان کی رکنیت اسپیکر نے منسوخ کر دی تھی۔ باغی ممبران اسمبلی نے ایوان میں ووٹ دینے کا حق مانگا تھا۔


      سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بی جے پی کی صفوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ وہیں کانگریس کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس درمیان کانگریس حکومت بننے کے آثار تلاش کر پارٹی کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد اور امبیکا سونی دہرادون پہنچ رہے ہیں۔ دونوں لیڈر کانگریس ممبران اسمبلی کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

      First published: