உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Supreme Court: ’انتخابات کے قریب مفت کے وعدے کرنا سنگین مسئلہ، فلاحی اسکیموں اور مفت کلچر میں ہے فرق‘

     تصویر: سپریم کورٹ

    تصویر: سپریم کورٹ

    اے اے پی نے الزام لگایا کہ عرضی گزار، اشونی اپادھیائے کے بی جے پی سے مضبوط روابط ہیں اور وہ فلاحی اسکیموں کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے سماج کے کمزور طبقات کی زندگیوں کو یکسر بدل دیا ہے اور انہیں ’’مفت‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    • Share this:
      سپریم کورٹ (Supreme Court) نے جمعرات کو مشاہدہ کیا کہ سیاسی جماعتیں انتخابات سے پہلے اور بعد میں مفت کا وعدہ کرتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کے بجائے رقم انفراسٹرکچر پر خرچ کی جانی چاہیے۔ جب کہ عام آدمی پارٹی (Aam Aadmi Party) نے ایک مفاد عامہ کی عرضی (PIL) میں مداخلت کی جس میں مفت کے کلچر کے ضابطے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس اس بات کی نشاندہی کی کہ فلاحی اسکیموں اور مفت کے کلچر میں فرق ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ اس سے معیشت پر کیسے اثر پڑتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

      اے ایم سنگھوی نے عام آدمی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کے لارڈ شپ نے ایک بہت اہم مسئلہ اٹھایا ہے۔ مفت کلچر کا لفظ بہت غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بنچ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم محتاط ہیں کہ ہم ممکن حد تک جا سکتے ہیں۔

      سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے استدلال کیا کہ مفت کے کلچر کو فن کی سطح تک بڑھا دیا گیا ہے اور انتخابات اب صرف اسی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں۔ اگر مفت کو لوگوں کی فلاح و بہبود سمجھا جاتا ہے تو یہ تباہی کا باعث بنے گا۔ سالیسٹر جنرل نے مزید ایک کمیٹی کی تجویز پیش کی جس میں مرکزی حکومت کے سکریٹری، ریاستی حکومت کے سکریٹری، سیاسی جماعتوں کے نمائندے، ریزرو بینک آف انڈیا، فنانس کمیشن اور نیشنل ٹیکس پیئرز ایسوسی ایشن کے نمائندہ شامل ہوں گے۔

      یہ بھی پڑھئے: پاکستان کے وزیرخزانہ کا فیصلہ-30 ارب کا اضافی ٹیکس لگے گا

      اب اس معاملے کی اگلی سماعت 17 اگست کو ہوگی۔ اس سے قبل کی سماعت میں سپریم کورٹ نے تسلیم کیا تھا کہ غریبوں کے لیے کچھ مدد کی ضرورت ہے، لیکن وہ یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ مفت کے کلچر کے قومی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کی ہیں اور غیر معقول مفت کے کلچر سے جڑے مسائل کی جانچ کے لیے ایک ماہر پینل تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔

      یہ بھی پڑھئے: خاتون نے KFC سے کیا آرڈر، ڈیلیوری کیلئے پہنچی پاکستانی لڑکی، جانئے پھر کیا ہوا

      اے اے پی نے الزام لگایا کہ عرضی گزار، اشونی اپادھیائے کے بی جے پی سے مضبوط روابط ہیں اور وہ فلاحی اسکیموں کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے سماج کے کمزور طبقات کی زندگیوں کو یکسر بدل دیا ہے اور انہیں ’’مفت‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: