உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Supreme Court: آج سپریم کورٹ میں ’طلاق حسن‘ والی عرضی پر سماعت، طلاقِ بدعت اور طلاق حسن میں کیا ہے فرق؟

     تصویر: سپریم کورٹ

    تصویر: سپریم کورٹ

    جسٹس اے ایس بوپنا اور وکرم ناتھ پر مشتمل بنچ نے درخواست گزار بینظیر ہینا کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل اشونی اپادھیائے کی عرضیوں کا نوٹس لیا اور کہا کہ اس درخواست پر فوری سماعت کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
      سپریم کورٹ (Supreme Court) میں آج یعنی 17 جون 2022 بروز جمعہ کو ایک عرضی پر سماعت کی جائے گا۔ جس میں مسلمانوں کے درمیان ’طلاق حسن‘ (talaq-e-hasan) کی مذہبی روایت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ تین طلاق (triple talaq) کی ایک شکل ہے، جس میں مسلمان مردوں کی جانب سے اپنی شریک حیات کو طلاق دیا جاتا ہے۔

      پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے 3:2 کی اکثریت سے جس میں اس وقت کے چیف جسٹس جے ایس کھیہر اقلیت میں تھے، 22 اگست 2017 کو فوری طور پر تین طلاق دینے کے رواج کو ’طلاقِ بدعت‘ سے خارج کر دیا تھا۔ جو کہ مسلمانوں میں رائج ہے۔

      تازہ درخواست میں طلاق حسن کے اس عمل کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں ایک مسلمان مرد اپنی بیوی کو ایک میں ایک بار تین ماہ تک 'طلاق' کا لفظ کہہ کر طلاق دے سکتا ہے۔

      جسٹس اے ایس بوپنا اور وکرم ناتھ پر مشتمل بنچ نے درخواست گزار بینظیر ہینا کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل اشونی اپادھیائے کی عرضیوں کا نوٹس لیا اور کہا کہ اس درخواست پر فوری سماعت کی ضرورت ہے۔

      وکیل اشونی کمار دوبے کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل غیر آئینی ہے کیونکہ یہ غیر معقول، من مانی اور مختلف بنیادی حقوق بشمول مساوات، زندگی اور آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

      مزید پڑھیں: دہلی میں پھر Covid-19 کا قہر، 10 دنوں میں 7 ہزار کیسیز، انفیکشن کی شرح میں بھی اچھال

      بنچ نے جمعہ کو سماعت کے لیے عرضی کی فہرست بنانے پر اتفاق کیا۔ عرضی میں صنفی اور مذہب غیر جانبدار طریقہ کار اور طلاق کی بنیادوں پر رہنما خطوط بھی مانگے گئے۔

      مزید پڑھیں: UP Violence: جمعہ کی نماز سے پہلے پورے اترپردیش میں ہائی الرٹ، چپے چپے پر سیکورٹی فورسز کا پہرہ

      اس عمل کو یکطرفہ ماورائے عدالت طلاق قرار دیتے ہوئے درخواست میں کہا گیا کہ اس پر پابندی لگانا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ انسانی حقوق اور مساوات سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اسلامی عقیدے کے لیے ضروری نہیں ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: