اپنا ضلع منتخب کریں۔

    عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ کی دفعات کو چیلنج! چھ درخواستوں پر سپریم کورٹ کرے گی سماعت

    وکیل اشونی کمار دوبے کے ذریعے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون توڑنے والوں اور اس طرح کی کارروائی کو روک دیا جائے گا۔

    وکیل اشونی کمار دوبے کے ذریعے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون توڑنے والوں اور اس طرح کی کارروائی کو روک دیا جائے گا۔

    مرکز نے من مانی طور پر ایک غیر معقول ریٹرو اسپیکٹو کٹ آف ڈیٹ (ایک طئے شدہ حتمی تاریخ) تشکیل دی ہے، اس میں اعلان کیا ہے کہ عبادت گاہوں کے کردار کو اسی طرح برقرار رکھا جائے گا جیسا کہ وہ 15 اگست 1947 کو تھی

    • Share this:
      سپریم کورٹ (Supreme Court) آج یعنی جمعہ کے روز عبادت گاہوں (خصوصی دفعات) ایکٹ 1991 (Places of Worship (Special Provisions) Act, 1991) کی بعض دفعات کے جواز کو چیلنج کرنے والی چھ درخواستوں کی سماعت کرے گی۔ یہ درخواستیں جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور انیرودھ بوس کی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے درج ہیں۔

      سپریم کورٹ ریٹائرڈ فوجی افسر انیل کبوترا، ایڈوکیٹ چندر شیکھر اور رودر وکرم سنگھ، دیوکی نندن ٹھاکر جی، سوامی جیتندرانند سرسوتی، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق ایم پی چنتامنی مالویہ کی طرف سے دائر درخواستوں کی جانچ کرے گی۔ کبوترا نے 1991 کے ایکٹ کے سیکشن 2، 3 اور 4 کی آئینی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیکولرازم کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

      مرکز نے من مانی طور پر ایک غیر معقول ریٹرو اسپیکٹو کٹ آف ڈیٹ (ایک طئے شدہ حتمی تاریخ) تشکیل دی ہے، اس میں اعلان کیا ہے کہ عبادت گاہوں کے کردار کو اسی طرح برقرار رکھا جائے گا جیسا کہ وہ 15 اگست 1947 کو تھی، اور حملہ آوروں کی طرف سے کی گئی تجاوزات کے خلاف تنازعات کے سلسلے میں عدالت میں کوئی مقدمہ یا کارروائی نہیں ہو گی۔

      وکیل اشونی کمار دوبے کے ذریعے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون توڑنے والوں اور اس طرح کی کارروائی کو روک دیا جائے گا۔ 1991 کی شق ایک ایکٹ ہے جو کسی بھی عبادت گاہ کی تبدیلی پر پابندی لگاتا ہے اور کسی بھی عبادت گاہ کے مذہبی کردار کو برقرار رکھنے کے لیے فراہم کرتا ہے جیسا کہ یہ 15 اگست 1947 کو موجود تھا۔

      مزید پڑھیں: 


      ایڈوکیٹ اشونی اپادھیائے کی طرف سے دائر کی گئی درخواست سمیت کئی دیگر درخواستیں، 1991 کے قانون کی بعض دفعات کے جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستیں پہلے ہی عدالت عظمیٰ میں زیر التوا ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے اس سے قبل 1991 کے قانون کی بعض دفعات کی درستگی کو چیلنج کرنے والی اپادھیا کی درخواست پر مرکز سے جواب طلب کیا تھا، جو کہ عبادت کی جگہ پر دوبارہ دعویٰ کرنے یا اس کے کردار میں تبدیلی کے لیے مقدمہ دائر کرنے سے منع کرتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: