உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلمانوں کے آئینی دستوری اور جمہوری حقوق کی بازیابی کیلئے علماء کرام نے اٹھائی آواز

    مسلم پرسنل لاء بورڈ ، سیاست اور جمہوریت ۔ علامتی تصویر ۔

    مسلم پرسنل لاء بورڈ ، سیاست اور جمہوریت ۔ علامتی تصویر ۔

    صرف میٹنگ کرنے اور بیان جاری کرنے سے نہ مسلمانوں کے شرعئی مسائل کاحل ممکن ہے اور نہ دیگر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    • Share this:
    لکھنئو ۔ مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی اور ان کے اہم مسائل حل کرنے کے لئے مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا دو روزہ تاریخی اجلاس آج چار باغ میں منعقد کیا گیا جس میں ملک کے دس سے زیادہ ریاستوں کے علماء کرام اور دانشوروں نے شرکت کی۔ آل انڈیا جمعیۃ القراء اور مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کے قومی صدر قاری محمد یوسف عزیزی کے صدارت میں منعقد ہوئے اجلاس میں مسلمانوں کے تعلق سے موجودہ مرکزی اور ریاستی۔ حکومت کے رویوں کی مذمت کی گئی ساتھ ہی اقلیتوں کے آئینی دستوری جمہوری اور سماجی حقوق کی بازیابی کے لئے مستقبل کا لائحہ عمل بھی تیار کیا گیا مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کے اجلاس میں شریک ہونے والے معروف عالم دین حافظ محمد علی نے اجلاس کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں ملت اسلامیہ برے دور سے گزر رہی ہے ایک ایسے دور سے جس میں صرف ان کے مذہبی سماجی تعلیمی اور اقتصادی حقوق ہی نہیں بلکہ آئینی ، دستوری اور جمہوری حقوق بھی صلب کئے جارہے ہیں۔

    معروف اسلامی اسکالر سید تنویر ہاشمی نے واضح الفاظ میں کہا کہ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے واکے پسماندہ اور دبے کچلے لوگوں کے حقوق کی بازیابی کے کئے بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، کسی بھی مذہبی سیاسی اور سماجی جماعت نے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے بلکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ تو بابری مجد اور تین طلاق جیسے مسائل پر بھی اپنا کردار ادا نہ کر سکا۔ لہٰذا اب مسلم پرسنل کا بورڈ آف انڈیا کے اہم پلیٹ فارم سے حقوق کی بازیابی کی عملی تحریک شروع کی جائے گی مسلمانوں جیب مجموعی صورت حال اور ملت کی زبوں حالی اور بے چارگی کو دیکھتے ہوئے سترہ مارچ دوہزار سترہ کو مسلم پرسنل لا بورڈ آف امڈیا کا قیام عمل میں آیا تھا اور بورڈ کے تمام عہدیداروں اور اراکین نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا خود کو صرف شرعئی مسائل تک محدود نہیں رکھے گا۔

    مفتی محمد علی قاضی نے مسلکی اتحاد و اتفاق کو اہم قرار دیتے ہوئے یہ کہا کہ ہم مسلمانوں کے مشترکہ مسائل حل کرنے کے باب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ تعاون کریں گے ۔۔آئین کی دفعہ ۳۴۱ سے مذہبی پابندی ہٹانے،سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرانے  پار لیمنٹ میں تحفظِ ناموسِ رسالت بل پاس کرانے اور مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے جیسے موضوعات وفاقی طور پر زیر غور رہیں گے۔

    مولانا قاری محمد یوسف یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم مسلکی تضاد ونفاق کے خلاف مشترکہ اتحاد میں یقین رکھتے ہیں جو موجودہ عہد کی اہم ضرورت ہے۔۔لیکن اہل سنت کا ایک بڑا اور ذمہدار طبقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ ملک کی مختلف سرکردہ اور اہم جماعتوں میں ہمارے خیالات و نظریات کی پاسداری و ترجمانی کرنے والے لوگوں کی مناسب نمائندگی نہیں لہٰذا اس اعتبار سے بھی بورڈ کی ضرورت کو محسوس کیا جارہا تھا پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کے قومی ترجمان ریاض الدین کہتے ہیں کہ اب ملک میں اپنی فلاح و بہبود کے لئے ہر محاذ پر آواز اٹھانے اور عملی اقدامات کرنے کی ضرور ہے۔

    ریاض الدین کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا کوئی اختلاف نہیں تاہم اتنا ضرور ہے کہ جو لوگ بنام شریعت ہی مسلمانوں کے شرعئ مسائل حل نہیں کر پارہے ہیں وہ دیگر معاملات و مسائل کیسے حل کریں گے اسی مقصد کے پیش نظر مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا سرگرم عمل ہے بورڈ کے قومی صدر قاری یوسف نے یہ بھی واضح کیا کہ پرسنل لاء بورڈ آف انڈیا کا اپناکوئی سیاسی مقصد اور ایجنڈا نہیں اور نہ ہم کسی سیاسی جماعت کی حمایت و مخالفت کے باب میں لوگوں پر اپنی مرضی تھوپنے کے قائل ہیں۔۔ اپنے جمہوری حق کے استعمال کے لئے لوگ پوری طرح آزاد ہیں۔۔اس اہم اجلاس مین دس نکاتی میمورنڈم بھی پیش کیا گیا اور مختلف ریاستوں سے تشریف لائے علماء کرام اور دانشوروں نے تجویز ات بھی پیش کیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: